اکبر بگٹی: ایک شخصیت سے ایک علامت تک ۔ ٹی بی پی اداریہ

38

اکبر بگٹی: ایک شخصیت سے ایک علامت تک ۔ ٹی بی پی اداریہ

  آج سے بیس سال قبل، 26 اگست 2006 کو بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں پاکستانی فوجی کارروائی کے دوران بلوچ بزرگ رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت نے بلوچستان کی قوم پرست تحریک کو ایک نئی توانائی دی۔ یہ واقعہ محض ایک سیاسی رہنماء کی شہادت نہیں تھا بلکہ بلوچستان کی سیاست اور بلوچ قومی شعور میں ایک ایسے موڑ کی حیثیت اختیار کر گیا جس کے اثرات آج دو دہائیاں گزرنے کے باوجود نمایاں ہیں۔ اکبر بگٹی کی شخصیت اپنی زندگی میں جس سیاسی حیثیت کی حامل تھی، ان کی شہادت کے بعد وہ ایک علامت میں تبدیل ہوگئی۔ ان کی شہادت نے شناخت، قومی حقوق، سیاسی اختیار اور آزادی کے سوالات سے مزید جوڑ دیا۔

26 اگست بلوچ تاریخ اور قومی تحریک پر ایسے گہرے نقوش چھوڑ گیا ہے جنہیں محض وقت گزرنے کے ساتھ مٹایا نہیں جا سکتا۔ اکبر بگٹی کی شہادت نے بلوچ نوجوانوں کے اندر اس دیرینہ خواب اور احساس کو ایک بار پھر زندہ کیا جسے نسلوں سے بلوچ سماج اپنے حافظے میں محفوظ کیے ہوئے تھا۔ ایک ایسا خواب جسے سیاسی دباؤ، فوجی آپریشنز اور ریاستی طاقت کے مختلف ادوار کے باوجود مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔

اگر اسلام آباد میں یہ تصور موجود تھا کہ ایک بااثر قوم پرست رہنماء کو راستے سے ہٹا کر بلوچ مزاحمت یا قومی تحریک کو کمزور کیا جا سکتا ہے، تو گزشتہ بیس برس کی تاریخ اس تصور کو کم از کم سنجیدہ سوالات کے سامنے ضرور کھڑا کرتی ہے۔ اس دوران ایک پوری نسل نے بلوچستان کے مسئلے کو نئے سیاسی اور قومی شعور کے ساتھ دیکھا۔ شاید 26 اگست کی سب سے بڑی معنویت یہی ہے کہ یہ صرف ایک ماضی کے واقعے کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کے انتخاب پر بھی غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔