بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6216ویں روز بھی جاری رہا۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
آج بیبرگ قمبرانی، حمل قمبرانی اور نعمت اللہ کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرکے اپنے پیاروں کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔
نعمت اللہ کی والدہ نے اس موقع پر کہا کہ ان کے بیٹے کو 2016 میں ملکی اداروں کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ ان کا کیس لاپتہ افراد کے کمیشن میں زیرِ سماعت رہا، جہاں ان کی جبری گمشدگی ثابت ہوئی اور کمیشن نے ان کی بازیابی کے لیے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کیا، تاہم آج تک نہ تو نعمت اللہ کو منظرِ عام پر لایا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کمیشن کے سربراہ سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی باحفاظت بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اس دوران بیبرگ قمبرانی اور حمل قمبرانی کے والد غلام عباس نے اپنے بیٹوں کی جبری گمشدگی کی تفصیلات وی بی ایم پی کے سامنے پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ 5 دسمبر 2025 کو سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے اہلکار ان کے گھر واقع کلی قمبرانی پہنچے اور شادی کی ایک تقریب کے دوران رات تقریباً 11 بجے ان کے دونوں بیٹوں کو سب کے سامنے حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔
غلام عباس کے مطابق انہوں نے اپنے بیٹوں کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے متعدد بار متعلقہ تھانے سے رجوع کیا، تاہم مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹوں کی بازیابی کے لیے حکومتی حکام اور متعلقہ اداروں سے بھی رابطے کرتے رہے ہیں، لیکن آج تک انہیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی اذیت اور بے یقینی کا شکار ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے غلام عباس کو یقین دلایا کہ تنظیم ان کے بیٹوں کے کیس کو ملکی قوانین کے تحت انصاف کی فراہمی کے لیے قائم اداروں کے سامنے اٹھائے گی اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
انہوں نے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ بیبرگ قمبرانی، حمل قمبرانی، نعمت اللہ اور دیگر تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور ان کے اہلِ خانہ کی بے چینی اور اذیت کا خاتمہ کیا جائے۔


















































