بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے گزشتہ پندرہ روز کے دوران بلوچستان بھر میں اڑتالیس کارروائیوں میں قابض پاکستانی فوج کے چالیس سے زائد اہلکار ہلاک کر دیئے، جبکہ ان حملوں میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ معاشی ناکہ بندی کے تحت مرکزی شاہراہوں پر ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، مزید برآں چار مرکزی پلوں کو بھی دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کر دیا گیا۔ قابض فوج کے ساتھ مختلف جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کے پانچ سرمچار جامِ شہادت نوش کرگئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یکم جولائی: مستونگ کے علاقے دشت میں کری ڈور کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کی ایک رسد گاڑی کو حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے اور دشمن اپنی پوسٹوں تک رسد پہنچانے میں ناکام رہا۔ اس سے قبل انتیس جون کو بھی اسی مقام پر حملے کے باعث قابض فوج کو رسد کی ترسیل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی روز نوشکی کے علاقے کچکی میں مرکزی شاہراہ پر ایک، جبکہ پنجگور کے چیدگی روٹ پر دو مال بردار گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
3 جولائی: نوشکی کے علاقے زرین جنگل میں قابض فوج کی ایک گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔ اسی طرح مستونگ کے علاقے دشت میں سبی روڈ پر قابض فوج کی ایک گاڑی کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، جس سے ایک مرکزی پل کو بھی نقصان پہنچا۔
اسی روز سرمچاروں نے شاہرگ-ہرنائی اور شاہرگ-زیارت شاہراہوں پر ناکہ بندی کر کے ان کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جو دو روز تک جاری رہا۔ اس ناکہ بندی کے دوران دو مشکوک افراد کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی جن سے تفتیش جاری ہے، جبکہ نوشکی کے علاقے ریکو میں نوشکی-خاران روڈ پر دو پلوں کو دھماکوں سے تباہ کر دیا گیا۔
سرمچاروں نے دالبندین میں کوئٹہ-تفتان روٹ کا کنٹرول حاصل کر کے بڑی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا۔ اسی شب قابض فوج اور سرمچاروں کے مابین جھڑپیں ہوئیں، جن میں قابض فوج کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
4 جولائی: کیچ کے علاقے بلنگور، مچات میں قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ دریں اثناء تمپ کے علاقے میرزازو میں سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی اور کلیئرنس میں مصروف پیدل اہلکاروں کو مسلح حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور کم از کم تین زخمی ہوگئے۔
5 جولائی: نوشکی کے علاقے احمد وال میں سرمچاروں نے پولیس تھانے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اسے نذرِ آتش کر دیا، جبکہ وہاں سے گرفتار کیئے گئے تین پولیس اہلکاروں کو سخت تنبیہ کے بعد رہا کردیا گیا۔ دوسری جانب کیچ کے علاقے سامی میں سرمچاروں نے قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر گرینیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر قابض فوج کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔
6 جولائی: سوراب کے علاقے بینچہ میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے سرمچاروں نے معدنیات لے جانے والی ایک گاڑی کو نذرِ آتش کردیا۔ اسی روز خضدار کے علاقے سونارو میں سرمچاروں نے قابض فوج کی ایک گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنا کر شدید نقصانات سے دوچار کیا۔
7 جولائی: سرمچاروں نے ہرنائی کے قریب زیارت کے علاقے خلافت میں قابض فوج کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب دشمن کے سینکڑوں اہلکار علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کر رہے تھے، اس حملے میں قابض فوج کے تین اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔ اسی روز شام کے وقت سرمچاروں نے تین مختلف مقامات پر گھات لگا کر قابض فوج کے سات سے زائد اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر کے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان شدید جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کے تین سنگت، رحیم اللہ عرف ظفر، خیر محمد عرف حمل اور کاکا عرف رشید جامِ شہادت نوش کر گئے۔
7 جولائی: خاران کے علاقے کلی کریم بخش کے قریب قابض فوج کو اس وقت بھاری نقصانات اٹھانے پڑے جب سرمچاروں نے دشمن کے پیدل اہلکاروں پر مسلح حملہ کیا۔ دریں اثناء نوشکی کے علاقے احمد وال میں سرمچاروں نے ایک اور کارروائی کے دوران قابض فوج کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔
اسی روز چمالنگ میں ڈیڈھ موڑ کے مقام پر معدنیات کی استحصالی گاڑیوں کی سیکیورٹی کمپنی کے اہلکار گل بیگ دادیانی کو ریموٹ کنٹرول دھماکے کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔ مذکورہ کارندہ نہ صرف استحصالی کمپنی کا حصہ تھا، بلکہ علاقے میں قابض فوج کے لیے بطور مخبر کام کرنے اور مقامی نوجوانوں کو آلہ کار بنا کر فوج میں شامل کرانے کی سرگرمیوں میں بھی ملوث تھا۔
8 جولائی: قلات کے علاقے مہلبی میں دو مختلف مقامات پر سرمچاروں نے قابض فوج کو نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
9 جولائی: واشک کے علاقے ساچی میں سرمچاروں نے قابض فوج کی چار گاڑیوں کے قافلے کو اس وقت بم دھماکے اور مسلح حملے کا نشانہ بنایا جب وہ قابض فوج کے 128 ونگ کے لیفٹیننٹ کرنل ناصر کو واشک سے خاران لے جا رہے تھے۔ اس کارروائی میں قابض فوج کی دو گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں، جن میں سے ایک گاڑی راکٹ حملے کے نتیجے میں مکمل تباہ ہوگئی۔ حملے میں چار اہلکار ہلاک اور چھ سے زائد زخمی ہو گئے، جن میں سے تین شدید زخمی ہیں۔
اسی روز پنجگور کے چیدگی روٹ پر سرمچاروں نے قابض فوج کو رسد پہنچانے والی ایک گاڑی کو ضبط کر لیا۔
10 جولائی: بلیدہ کے علاقے میناز میں سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑیوں کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب نوشکی کے علاقے بٹو میں کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر سرمچاروں نے ایک اہم پل کو دھماکے سے تباہ کر دیا۔ دریں اثناء پنجگور کے علاقے سرادوک میں سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ پر گرینیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر انہیں جانی ومالی نقصانات سے دوچار کیا۔
11 جولائی: نوشکی کے علاقے کچکی کے مقام پر سرمچاروں نے پولیس چوکی پر کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود تین اہلکاروں کو حراست میں لے لیا، جس کے بعد چوکی میں دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ مذکورہ چوکی گزرنے والی گاڑیوں سے غیر قانونی بھتہ خوری میں ملوث تھی جس پر یہ کارروائی کی گئی، جبکہ حراست میں لیے گئے پولیس اہلکاروں کو سخت تنبیہ کے بعد رہا کر دیا گیا۔
12 جولائی: سوراب کے علاقے نغاڑ میں سرمچاروں نے قابض فوج کی دو گاڑیوں کو اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا جب وہ اپنے کیمپ سے باہر نکل رہی تھیں، اس حملے میں تین اہلکار موقع پر ہلاک اور کم از کم سات زخمی ہو گئے جنہوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ دریں اثناء مستونگ کے علاقے گرگینہ میں سرمچاروں نے قابض فوج کی دو گاڑیوں کو مسلح حملے کا نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا۔ اسی روز نوشکی کے علاقے احمد وال میں پھاٹک کے مقام پر قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں دو اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے، جبکہ شام کے وقت نوشکی کے علاقے گومازگی میں سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑیوں پر مسلح حملہ کر کے انہیں جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔
13 جولائی: خاران کے علاقے زومی میں خاران-کوئٹہ شاہراہ پر سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑیوں کے قافلے پر مسلح حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب سوراب کے علاقے نغاڑ میں قابض فوج کے اہلکاروں کو سرمچاروں نے ایک تنگ گھاٹی میں اس وقت مسلح حملے کا نشانہ بنایا جب وہ موٹر سائیکلوں پر وہاں سے گزر رہے تھے، اس حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک اور کم از کم تین زخمی ہو گئے۔
اسی روز وڈھ کے علاقے سنارو میں مرکزی شاہراہ پر قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر تعینات ایک اہلکار کو بی ایل اے کے اسنائپر نے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔ دریں اثناء دالبندین میں فوجی منصوبے کے لیے سامان لے جانے والی ایک گاڑی کو نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا گیا۔ مزید برآں پنجگور کے چیدگی روٹ پر سرمچاروں اور قابض فوج کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ ان جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کے دو سرمچار، سنگت مسعود عرف سمیع اور سنگت شاہ نذر عرف بادل جامِ شہادت نوش کرگئے۔
14 جولائی: سرمچاروں نے خاران-کوئٹہ روڈ کا کنٹرول سنبھال کر گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی اور شاہراہ کے قریب قائم قابض پاکستانی فوج کی ایک خالی پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کر دیا، مذکورہ پوسٹ کو قابض فوج فوجی قافلوں کی سیکیورٹی اور عسکری جارحیت کے وقت استعمال میں لاتی تھی۔ دوسری جانب سرمچاروں نے قلات کے علاقے توک کے قریب کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر واقع ایک مرکزی پل کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کر دیا۔
بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی ان تمام معرکوں کے دوران مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اپنے پانچوں عظیم سرمچاروں، سنگت رحیم اللہ عرف ظفر، سنگت خیر محمد عرف حمل، سنگت کاکا عرف رشید، سنگت مسعود عرف سمیع اور سنگت شاہ نذر عرف بادل کی لازوال قربانی، عزم اور نظریاتی پختگی کو اعلیٰ ترین قومی الفاظ میں خراجِ عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان سرفروشوں کا بہایا گیا ایک ایک قطرہ خون بلوچ قومی تحریکِ آزادی کی شمع کو روشن رکھے گا اور آنے والی نسلوں کے لیئے غیرت واستقامت کا نشان بنے گا۔ بی ایل اے یہ پختہ عہد دہراتی ہے کہ شہداء کا لہو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ان کے مشن کو قابض پاکستانی فوج کے مکمل انخلاء اور آزاد وطن کے حصول تک پوری شدت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ شہداء کا بہتا لہو ہماری آزادی کا ضامن اور دشمن کی حتمی پسپائی کا پیش خیمہ ہے۔
















































