بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے تنظیم کی رکن سید بی بی کے خلاف جاری ریاستی کارروائیاں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست اختلافِ رائے سے اس قدر خوفزدہ ہو چکی ہے کہ اب ایک بیوہ ماں اور اس کے معصوم بچوں کو بھی اپنی انتقامی سیاست کا نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ صرف ایک فرد کے خلاف کارروائی نہیں، بلکہ انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور بلوچ عوام کی اجتماعی سیاسی آواز پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ سید بی بی کو یکم جولائی کی رات ساڑھے نو بجے بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں لیا گیا اور تقریباً 24 گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا۔ تاہم رہائی کے بعد دوبارہ فون کر کے انہیں طلب کیا گیا۔ رہائی کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد، جب وہ گھر پہنچی، ریاستی فورسز نے انہیں فون کر کے دوبارہ پیش ہونے کو کہا۔ سید بی بی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ابھی پولیس کی تحویل سے واپس آئی ہیں، اس لیے اس وقت نہیں آ سکتی، صبح حاضر ہوں گی۔ اس پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انہیں گرفتاری کی دھمکی دی۔ اس دھمکی کے بعد وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ گھر سے نکلیں اور کوئی دوسری محفوظ جگہ نہ ملنے کے باعث پوری رات اپنے شوہر کی قبر کے سرہانے، قبرستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی۔ ایک بیوہ ماں کا اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ خوف اور عدم تحفظ کے عالم میں قبرستان میں رات گزارنا اس ریاستی جبر کی سنگینی کو بے نقاب کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سید بی بی گزشتہ ایک سال سے ہر ہفتے سی ٹی ڈی کے دفتر میں پیش ہوتی رہی ہیں، اس کے باوجود ان کے خلاف مسلسل ہراسانی، دھمکیوں اور دباؤ کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ گزشتہ شب ان کے گھر پر پولیس نے دھاوا بولا، توڑ پھوڑ کی، اور اس کے بعد ان کی والدہ کے گھر بھی گئی، جہاں ان کے بھائی کو جبری گمشدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ رات قبرستان میں پناہ لینے کے بعد سید بی بی جب گھر پہنچی تو گھر کی حالت دیکھ کر اور اپنے رشتہ داروں کو ہراساں کیے جانے کے خلاف تربت پریس کلب پہنچی ، جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کی۔ اس کے بعد وہ خود سی ٹی ڈی دفتر گئی تاکہ انویسٹی گیشن کے لیے پیش ہوں، مگر وہاں انہیں گرفتار کر کے 3-MPO کے تحت ایک ماہ کے لیے تربت سینٹر جیل منتقل کر دیا گیا۔
مزید کہاکہ یہ اقدامات واضح کرتے ہیں کہ ریاست قانون کو انصاف کے لیے نہیں بلکہ اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ایک سیاسی کارکن اور ایک بیوہ ماں کو بار بار نشانہ بنانا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
آخر میں کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سید بی بی کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ اگر ان کی جان، سلامتی یا صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ ریاستی اداروں اور حکام پر عائد ہوگی۔



















































