کراچی: لاپتہ دین محمد کی بیٹی و بی وائی سی رہنماء سمی دین کے گھر پر فورسز کا چھاپہ

1

سندھ پولیس و پاکستانی فورسز نے گھر میں تھوڑ پھوڑ کی اور قیمتی سامان اپنے ہمراہ لے گئے۔

‏اس حوالے سے سمی دین بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک ماہ سے جاری مسلسل ہراسانی کے بعد گزشتہ رات تقریباً ایک بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے اہلکار، جو بائیس گاڑیوں میں سوار تھے اور جن کی تعداد تقریباً 60 سے 70 کے درمیان تھی، لیڈی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مجھے گرفتار کرنے کے لیے میرے گھر پہنچے۔

‏سمی دین بلوچ کے مطابق اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھی، اہلکاروں نے گھر کے دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک گھر کے اندر موجود رہے۔

اس دوران انہوں نے پورے گھر کی تلاشی لی اور گھر میں موجود تمام سامان، بشمول لیپ ٹاپ، کیمرے، موبائل فون، کتابیں، دستاویزات اور زیورات اپنے ساتھ لے گئے۔

‏بی وائی سی رہنماء کے مطابق اگر ان کا مقصد مجھے گرفتار کرنا تھا تو میری غیر موجودگی کا کنفرم کرنے کے باوجود میرے گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہونے کی کیا مقصد تھا؟ میرے گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو چوری کرنے، سامان کی توڑ پھوڑ کرنے اور ہمسائیوں کو تشدد اور ہراساں کرنے کا کیا مقصد تھا؟ کس قانون کے تحت یہ سب کچھ کیا جارہا ہے؟

‏سمی دین بلوچ نے کہا ہے میں متعدد بار یہ واضح کر چکی ہوں کہ اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو میں اسے قانونی فورمز پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں، تاہم ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کے گھر پر رات کے اندھیرے میں دھاوا بولنا، ہمسایوں کو تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے خوفزدہ کرنا اور میرے خاندان کو ہراساں کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقصد قانون کا نفاذ نہیں بلکہ مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو ڈرانا اور خاموش کرانا ہے۔

‏سمی دین بلوچ نے مزید کہا میرے گھر کو پہنچنے والے تمام نقصان اور اس کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری بغدادی پولیس، لیاری پولیس اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔

واضح رہے کہ سمی دین بلوچ کے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کو گذشتہ روز سترہ سال مکمل ہوگئے، سمی دین کے والد کو 28 جون 2009 کو پاکستانی فورسز نے خضدار سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سمی دین بلوچ کے خلاف بلوچستان و سندھ میں متعدد مقدمات درج کئے گئے جبکہ انھیں متعدد بار کراچی پولیس کی جانب سے گرفتار بھی کرلیا گیا تھا تاہم بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے انھیں رہا کردیا تھا۔