بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ زون کی جانب سے آج تربت میں ہونے والے احتجاج کے پیش نظر شہر میں سخت پہرہ اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔
بی وائی سی کے مطابق احتجاج کو روکنے کے لیے ریاست نے کل سے ہی تربت میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ کل رات گئے بی وائی سی کی رکن سید بی بی بلوچ کو ان کے گھر سے بغیر کسی قانونی جواز کے گرفتار کر لیا گیا اور کہا گیا کہ انہیں 24 گھنٹے بعد، یعنی احتجاج کے بعد، رہا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج پورے شہر میں عملاً کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے، اور ایک درجن سے زائد افراد کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
بی وائی سی کے مطابق یہ تمام اقدامات ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال اور کھلی جبر آمیز پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف عدلیہ کو سیاسی مخالفین کے خلاف من مانی فیصلوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف انہی فیصلوں کے خلاف اٹھنے والی پُرامن عوامی آواز کو گرفتاریوں، پابندیوں، شیلنگ اور خوف کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست سیاسی اور اخلاقی بحران کا شکار ہے اور بی وائی سی کی عوامی حمایت سے حد درجہ خوفزدہ ہے۔
خیال رہے کہ بی وائی سی کی مرکزی قیادت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی کی عمر قید سزا کے خلاف بلوچستان سمیت بیرون ملک احتجاج کیا جا رہا ہے۔ تاہم بلوچستان میں ہونے والے پرامن مظاہرین کے مطابق انہیں سخت ریاستی دباؤ کا سامنا ہے اور احتجاج کی پاداش میں ریاست کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔

















































