زیدی آپریشن میں قابض فوج کے 19 اہلکار ہلاک، شہر پر مکمل کنٹرول اور 6 سرمچاروں کی شہادت۔ بلوچ لبریشن آرمی

753

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے ۱۰ جولائی کو ایک منظم کارروائی کرتے ہوئے خضدار کے اسٹریٹجک علاقے زیدی پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ سرمچاروں نے صبح ٹھیک ۶ بجے ہنگامی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مقامی پولیس تھانے سمیت تمام اہم سرکاری عمارتوں کو اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ اس دوران مزاحمت کرنے والا ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔ تھانے پر مکمل قبضے کے بعد وہاں موجود تمام اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر فوجی ساز وسامان ضبط کرلیا گیا اور بعد ازاں عمارت میں بارودی مواد نصب کر کے اسے مکمل طور پر مسمار کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سرمچاروں کے مختلف دستوں نے مرکزی شاہراہ پر پوزیشنز سنبھال کر راستوں کی سخت ناکہ بندی کی۔ سورگز کے مقام پر جب پولیس ڈی ایس پی کے قافلے نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو سرمچاروں نے گھات لگا کر اسے نشانہ بنایا اور دشمن کو پسپائی پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد قابض پاکستانی فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی فضائی کمک کے ساتھ بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑا لشکر علاقے میں بھیجا، جہاں سرمچاروں نے مختلف اطراف سے حملہ کرکے شدید جنگ کا آغاز کردیا۔ تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس خونریز جھڑپ میں قابض فوج کے ۱۵ سے زائد اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، جبکہ دشمن کی ایک بکتر بند گاڑی مکمل طور پر تباہ کردی گئی۔ اسی معرکے کے دوران سرمچاروں نے فضائی کمک فراہم کرنے والے دشمن کے ہیلی کاپٹروں پر بھاری ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک ہیلی کاپٹر کو شدید نقصان پہنچا۔

ترجمان نے کہا کہ اسی روز شام کے وقت سرمچاروں کے ایک اور دستے نے اسی شاہراہ پر پیش قدمی کرنے والے قابض فوج کے ایک اور قافلے کو نشانہ بنایا، جس میں دشمن کی ایک گاڑی براہِ راست زد میں آئی اور مزید ۴ اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ مادر وطن کے دفاع اور اس عظیم معرکے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے سفر میں بی ایل اے کے ۶ سرمچاروں، سنگت قدوس قمبرانی عرف سکندر، سنگت محی الدین کرد عرف مرید، سنگت کُرک، سنگت صالح محمد عرف گہرام خان، سنگت جمعہ خان عرف بورجان اور سنگت فہیم احمد عرف نظر جان نے بہادری کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ بلوچ لبریشن آرمی اپنے ان جانباز سرمچاروں کی عظیم قربانی کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اپنے اس غیر متزلزل عزم کو دہراتی ہے کہ شہداء کا بہتا لہو منزلِ مقصود یعنی آزاد بلوچستان کے قیام تک قومی تحریک کو توانائی بخشتا رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیدی جیسے اہم اسٹریٹجک علاقے پر بی ایل اے کا یہ مکمل کنٹرول قابض فوج کے سیکیورٹی کے تمام کھوکھلے دعووں کو خاک میں ملادیتا ہے، کیونکہ یہ پورا علاقہ دشمن کی دو بڑی چھاونیوں کے عین وسط میں واقع ہے۔ دشمن کی اتنی بھاری عسکری موجودگی، حفاظتی حصاروں اور فضائی وزمینی نیٹ ورکس کے باوجود سرمچاروں نے نہ صرف زیدی کو اپنی تحویل میں لیا بلکہ کئی گھنٹوں تک وہاں اپنی حاکمیت قائم رکھ کر یہ ثابت کر دیا کہ مقبوضہ بلوچستان کا کوئی بھی حصہ اب بی ایل اے کی پہنچ سے دور نہیں ہے۔ یہ معرکہ قابض پاکستانی فوج کے لیئے ایک واضح اور فیصلہ کن پیغام ہے کہ وہ اپنے بڑے عسکری اڈوں کے درمیانی فاصلوں میں بھی خود کو محفوظ تصور نہ کرے، کیونکہ بلوچ سرزمین پر حتمی اور آخری فیصلہ صرف اور صرف دھرتی کے حقیقی وارثوں کا ہی چلے گا۔