بلوچ ریپبلکن گارڈز نے جنوری سے جون تک اپنی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کردیں۔
بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے میڈیا کو فراہم کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہمارے سرمچاروں نے رواں سال 2026 کے ماہ جنوری سے جون تک 73 کارروائیوں میں قابض پاکستانی فورسز کے 39 اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کیا۔
ترجمان کے مطابق اس دوران بی آر جی کے سرمچاروں نے پولیس تھانوں پر قبضہ کیا، شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کیں، جبکہ مواصلاتی ٹاورز، بجلی کے ٹاورز، گیس پائپ لائنوں اور سرکاری منصوبوں کو نشانہ بنایا۔
بی آر جی کے ترجمان کے مطابق ان کی تنظیم نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کیں جن میں نصیر آباد میں 18، کچھی میں 18، ڈیرہ بگٹی میں 4، سبی میں 25، کوئٹہ میں ایک اور صحبت پور میں 2 کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ سندھ میں بھی 5 حملے کیے گئے۔
ترجمان دوستین بلوچ نے کہا کہ 24 حملے قابض پاکستانی فورسز، پولیس اور سرکاری حمایت یافتہ کارندوں پر کیے گئے، جن میں قابض دشمن کے 39 اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ 3 مرتبہ ٹرینوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ان میں پاکستانی فورسز کے اہلکار سفر کر رہے تھے، جبکہ 7 مرتبہ ریلوے ٹریک بھی تباہ کیے گئے۔
ترجمان کے مطابق اس دوران 3 مرتبہ قابض پولیس تھانوں پر قبضہ کرکے اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا، سرکاری گاڑیاں، اسلحہ اور دیگر فوجی سازوسامان ضبط کیا گیا، جبکہ گرفتار پولیس اہلکاروں کو بلوچ ہونے کی بنیاد پر بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 11 مرتبہ شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کرکے گاڑیوں کی تلاشی لی گئی، جبکہ 5 ٹرالر گاڑیوں کو نذرِ آتش کرکے ناکارہ بنا دیا گیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ 15 کارروائیوں کے دوران 4 مواصلاتی ٹاورز اور 20 بجلی کے ٹاورز تباہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ 7 گیس پائپ لائنوں اور 2 پلوں کو بھی تباہ کیا گیا۔













































