بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے کلاتک، تربت سے 19 سالہ نوجوان ننیب بلوچ ولد منیر احمد جبری گمشدگی کا شکار ہو گئے۔ اہلِ خانہ کے مطابق انہیں 12 جولائی 2026 کی صبح تقریباً 4 بجے ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
اہلِ خانہ کے مطابق انہیں فرنٹیئر کور (FC) کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
دوسری جانب بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6311ویں روز بھی جاری رہا۔ اس دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث متعدد خاندان برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، جبکہ جن افراد پر کسی قسم کا الزام ہے انہیں عدالتوں میں پیش کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھانا ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو انصاف کی فراہمی بھی آئین اور قانون کے مطابق یقینی بنائی جانی چاہیے۔

















































