بی وائی سی کی رہنما سید بی بی شریف دوبارہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار، متعدد خواتین اور نوجوان بھی زیرِ حراست

54

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سید بی بی شریف کو ایک بار پھر 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سید بی بی آج صبح معمول کی پیشی کے لیے سی ٹی ڈی تھانہ تربت گئی تھیں، جہاں سے انہیں حراست میں لے کر ڈسٹرکٹ جیل تربت منتقل کر دیا گیا۔

اس سے قبل آج صبح 11 بجے تربت پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران سید بی بی نے کہا تھا کہ سی ٹی ڈی نے گزشتہ رات ان کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر تین مرتبہ چھاپے مارے، تاہم ان کی عدم موجودگی کے باعث انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

یاد رہے کہ سید بی بی کو بدھ کی شب ان کے گھر پر ایک کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں جمعرات کی رات رہا کر دیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز بی وائی سی کے احتجاج کے بعد سات بلوچ خواتین، کچھ بچوں اور تین نوجوانوں کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا ہے۔ جن میں نسرت منیر، نادیہ، عائشہ، لال بی بی، محمد، طارق اور ارشاد شامل ہیں، جبکہ دیگر افراد کی شناخت تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

گرفتار خواتین اور دیگر افراد کو تاحال منظرِ عام پر نہیں لایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز تربت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر ڈاکٹر ماہ رنگ اور شاہ جی کی عمر قید کی سزاؤں کے خلاف ایک پرامن احتجاج منعقد کیا گیا تھا، تاہم احتجاج سے قبل انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کر کے رات کے وقت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ احتجاج کے روز شہر میں کرفیو جیسا ماحول تھا اور فورسز کی بھاری نفری تعینات کر کے احتجاج کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران خواتین اور بچوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔