بلوچستان کے مختلف علاقے میں پاکستانی فورسز پر حملوں نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ رسد گاڑی تحویل میں لینے و مرکزی پل تباہ کرنے سمیت علاقے کو مسلح افراد نے کنٹرول میں لے لیا۔
کیچ کے علاقے بلیدہ، میناز میں مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کی گاڑیوں و موٹر سائیکلوں پر سوار اہلکاروں کو گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پانچ اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دریں اثناء خضدار کے علاقے زیدی میں مسلح افراد کی بھاری تعداد نے آج صبح داخل ہوکر پولیس تھانے سمیت چوکیوں کو اپنے کنٹرول میں لیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق صبح چھ بجے کے قریب مسلح افراد کی بڑی تعداد نے داخل ہوکر مختلف مقامات پر مورچے سنبھال لیے اور تھانے کو بعدازاں نذر آتش کردیا۔ اس دوران سورگز کے مقام پر خضدار سے پہنچنے والی فوج کی گاڑیوں کو مسلح افراد نے حملے میں نشانہ بنایا جہاں شدید نوعیت کی جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں دیکھنے میں آئی ہے۔
مزید برآں گذشتہ شب نوشکی، بٹو میں نامعلوم افراد نے کوئٹہ – کراچی مرکزی شاہراہ پر ایک پل کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا جبکہ پنجگور کے علاقے چیدگی میں گذشتہ روز مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران پاکستانی فوج کیلئے راشن پہنچانے والی ایک گاڑی کو اپنی تحویل میں لیا۔
ان کاروائیوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیموں مذکورہ علاقوں میں متحرک ہیں۔

















































