بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ پنجگور کے علاقے پروم لِگورک میں ریاستی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح کارندوں کی جانب سے 19 سالہ عاصم ولد ناصر کے گھر پر دھاوا بول کر انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی گئی۔ چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، تاہم جب اہلِ خانہ نے مزاحمت کی تو ڈیتھ اسکواڈنے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں عاصم شدید زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہاکہ 19 سالہ عاصم ایک طالب علم ہیں، انہیں اغوا کرنے کی کوشش اور پھر گھر والوں کے سامنے گولیاں مارنا اس حقیقت کی ایک یاددہانی ہے کہ بلوچستان میں ریاستی پالیسیاں محض بلوچ نسل کشی کے لیے تشکیل دی جاچکی ہے
ایک منظم نسل کش پالیسی کے تحت بلوچ عوام، بالخصوص نوجوانوں اور طلبہ کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے اندر خوف اور عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلوچستان، خصوصاً پنجگور، آج ایسے حالات سے گزر رہا ہے جہاں بلوچ فرزندوں کی زندگی اور تحفظ مسلسل خطرے میں ہیں۔
مزید کہاکہ جبری گمشدگیاں، ماورائے قانون کارروائیاں اور مسلح گروہوں کے ذریعے آبادی کو خوفزدہ رکھنے کی پالیسی ایک خوفناک شکل اختیار کر چکی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید خاندان قرب، بے یقینی اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
بیان میں کہاکہ طلبہ اور نوجوانوں کو نشانہ بنانا محض ایک طبقےکے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بلوچ معاشرے کے مستقبل کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی نفی ہے بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔
ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں جاری اس نسل کشی کو نظر انداز کرنا تاریخ کے صفحوں پر سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔ بلوچ نسل کشی سے تدارک کا واحد راستہ ریاستی جبر کو لگام پہنانا ہے۔جس کے لیے ضروری ہے کہ تام زی شعور افراد بغیر کسی اگر مگر کے اس نسل کشی کے مسلسل بولتے رہے۔



















































