بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے زیرِ حراست رہنماء ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی، بیبرگ زہری، صبغت اللہ اس وقت جیل کے اندر غیر شفاف و فیس لیس ٹرائل کے خلاف احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
قید سیاسی رہنماؤں مؤقف ہے کہ انہیں آئین اور قانون کے مطابق کھلی عدالت میں منصفانہ اور شفاف سماعت کا حق حاصل ہے، اور انہیں اس بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کی آواز کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور ان کے مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج کو مزید وسعت دیتے ہوئے بھوک ہڑتال کا آغاز کریں گے۔
اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز قید رہنماؤں کے اہلِ خانہ ملاقات کے لیے جیل پہنچے اور گھنٹوں انتظار کرتے رہے، مگر انہیں اپنے پیاروں سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔ ایک طرف قیدی احتجاج پر ہیں اور دوسری طرف خاندانوں کو ملاقات کے حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے لواحقین کا کہنا ہے کہ جیل کے اندر جاری دھرنے کو چار روز مکمل ہو چکے ہیں، تاہم خاندانوں کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، اور یہاں تک کہ وکلاء تک رسائی سے بھی انکار کیا گیا ہے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں زیرِ حراست رہنماؤں کی صحت اور حالت کے حوالے سے شدید تشویش لاحق ہے، خصوصاً شدید گرمی کے موسم میں ان کی خیریت کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ وہ مشکل حالات میں اپنا پرامن احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لواحقین نے انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں، وکلاء اور انصاف پر یقین رکھنے والے تمام افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں اور مطالبہ کریں کہ بی وائی سی رہنماؤں کو اہلِ خانہ سے ملاقات، قانونی مشاورت اور دیگر بنیادی حقوق تک رسائی فراہم کی جائے۔
دوسری جانب تنظیم کا کہنا ہے کہ تنظیمی رہنماؤں کی پیشی کے موقع پر ریاست کی جانب سے مقدمات کو ویڈیو لنک کے ذریعے فیس لیس ٹرائل کی طرف منتقل کرنے کا عمل منصفانہ سماعت اور عدالتی شفافیت کے بنیادی اصولوں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ اقدام نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ زیرِ حراست رہنماؤں کے قانونی اور آئینی حقوق کو مزید محدود کرنے کی کوشش بھی ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ حراست رہنما اس وقت جیل کے اندر فیس لیس ٹرائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ ان کے مقدمات کی سماعت آئین اور قانون کے مطابق کھلی عدالت میں ہونی چاہیے، اور انہیں اپنے وکلاء، اہلِ خانہ اور عوامی نگرانی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ فیس لیس ٹرائل اور جیل ٹرائل کا فوری خاتمہ کیا جائے، مقدمات کو کھلی عدالت میں منتقل کیا جائے، جج کی تبدیلی سے متعلق درخواست پر فوری سماعت کی جائے، اور زیرِ حراست رہنماؤں کے تمام قانونی اور آئینی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔


















































