نوشکی، پنجگور اور گوادر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں. بی ایل ایف

1

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ایک کاروائی میں 12 جون 2026 کو نوشکی کے علاقے ملّ میں فرنٹیر کور (ایف سی) کی گاڑی کو آئی ای ڈی (IED) بم حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل، 10 جون 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ایک حملے میں پنجگور کے علاقہ سری کوران کے رہائشی اور ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ حاتم ولد پیر جان، اور حلیم ولد محمد اعظم کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا، جبکہ ان کا ایک ساتھی مہروز شدید زخمی ہو گیا۔ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ڈیتھ اسکواڈ کے ان تینوں کارندوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ بازار کے راستے ایف سی کیمپ کی طرف جا رہے تھے۔ یہ تینوں بریگیڈیئر ظفر اقبال کے انتہائی اہم کارندے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ حاتم ماضی میں لشکرِ بلوچستان کا رکن رہا تھا۔ ہتھیار ڈالنے کے بعد اس نے نو سال تک مشکے میں فوج کے آلہ کار مہراللّہ محمد حسنی کے ماتحت قابض فوج کیلئے کام کیا۔ بعد ازاں، اس نے ڈیتھ اسکواڈ کے دیگر ارکان پر مشتمل ایک نئے گروہ کی سربراہی سنبھال لی۔
کمانڈنٹ پنجگور، بریگیڈیئر ظفر اقبال اس گروہ کا سرپرست ہے۔ اسی کے ایما پر سوردو، سری کوران، وشاپ اور وشبود کے علاقوں میں تحریک آزادی اور بلوچ عوام کے خلاف کام کی ذمہ داری حاتم کے سپرد کی گئی تھی، جہاں وہ اپنے جتھے کے ساتھ سرگرم رہا۔ بلوچ نوجوانوں اور خواتین کے خلاف مختلف کارروائیوں میں حاتم براہ راست ملوث تھا۔
پنجگور، سگار، سوراپ، سبزاب، وشبود، پاردان اور نِوان کے علاقوں میں بلوچ سرمچاروں کے راستوں کی ناکہ بندی، فوجی آپریشنز میں دشمن کیلئے سہولت کاری، سرمچاروں کے رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپوں، دستی بم حملوں، اغوا، قتل اور جبری گمشدگیوں میں حاتم کا کلیدی کردار تھا۔ مزید برآں، وہ تحریک سے وابستہ کارکنوں کے خاندانوں اور خواتین کو دباؤ میں لا کر جبری پریس کانفرنسز اور  لاتعلقی کے اعلانات کروانے جیسی سرگرمیوں میں بھی ملوث تھا۔ بریگیڈیئر ظفر اقبال نے حاتم کو مختلف کارروائیوں کے لیے بھاری مقدار میں اسلحہ، گاڑیاں اور دیگر مراعات و سہولیات بھی فراہم کر رکھا تھا۔
ہلاک ہونے والا دوسرا کارندہ، حلیم ولد محمد اعظم سکنہ سری کوران 2017 سے ملٹری انٹیلیجنس (MI) کے لیے کام کر رہا تھا۔ وہ اغوا، قتل، جبری گمشدگیوں، ناکہ بندیوں، ٹارگٹ کلنگ، چوری، بلوچ خواتین کو بلیک میل کرنے اور جبری پریس کانفرنسز کروانے سمیت متعدد جرائم میں ملوث رہا۔ وہ حاتم کا قریبی ساتھی تھا، تاہم یہ دونوں الگ الگ گروہوں کی سربراہی کرتے تھے۔
تسپ کا رہائشی مہروز بھی ان دونوں کا قریبی ساتھی ہے، جو حملے کے وقت اسی گاڑی میں سوار ہونے کی وجہ سے زخمی ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 9 جون 2026 کو سرمچاروں نے نوشکی کے علاقے کُچکّی کے مقام پر ناکہ بندی کر کے تمام گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس دوران سرمچاروں نے کُچکّی پولیس چوکی پر قبضہ کر کے تمام سرکاری ریکارڈ سمیت چوکی کو نذرِ آتش کر دیا۔ یہ ناکہ بندی دو گھنٹے تک جاری رہی، جس کا مقصد علاقے میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنا اور فوج و اس کے سہولت کاروں کی نقل و حرکت کو غیر محفوظ بنا کر محدود رکھنا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ 7 جون 2026 کو سرمچاروں نے گوادر کے علاقے گبد قلاتو میں دوبیست پنجاہ روڈ پر مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کارروائی کے دوران سرمچاروں نے قریب ہی دو پولیس چیک پوسٹوں پر قبضہ کر کے وہاں موجود سرکاری اسلحہ و دیگر عسکری سامان ضبط کر لیا، جن میں ایک ایم-16 رائفل، تین کلاشنکوف رائفلیں بمعہ میگزین، ایک گاڑی اور دیگر فوجی سامان شامل تھا۔ اس کے علاوہ، سرمچاروں نے چیک پوسٹ پر نصب فوجی نگرانی کے کیمرے بھی تباہ کر دیے۔ بعد ازاں سرمچاروں نے جائے وقوعہ کی طرف پیش قدمی کرنے والے فوجی اہلکاروں کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں فوجی دستہ پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ نوشکی، پنجگور اور گوادر حملوں میں دو ایف سی اہلکار، اور دو ڈیتھ اسکواڈ کارندوں کی ہلاکت پولیس چوکیوں پر قبضہ اور سرکاری اسلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔