غلامی کی زنجیریں – شاہین بلوچ

23

غلامی کی زنجیریں

تحریر: شاہین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آزادی ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس کی قیمت تاریخ میں ہمیشہ جان و مال کی قربانیوں، طویل قید و بند کی صعوبتوں اور ناقابلِ بیان مشکلات کی صورت میں چکائی گئی ہے۔ وہ باضمیر اور حوصلہ مند لوگ جو مادرِ وطن یا اپنے نظریات کی آزادی کے لیے قربانی کا راستہ چنتے ہیں، ان کی زندگی ہر لمحہ کٹھن امتحانات سے عبارت ہوتی ہے۔

جب کوئی انسان غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا عزم کرتا ہے، تو وہ صرف اپنی ذات کی حد تک نہیں سوچتا، بلکہ اپنے ذاتی مفادات، سکون اور خاندانی خوشیوں کو پسِ پشت ڈال کر ایک طویل کٹھن سفر پر نکلتا ہے۔ آزادی کی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کو سب سے پہلے اپنے پیاروں سے دوری اور انتظار کے کرب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ روپوشی کی زندگی، گھر بار چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں پناہ لینا، اور ہر لمحہ موت کے سائے میں جینا ان کا معمول بن جاتا ہے۔

تحریکِ آزادی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ قید خانوں کی تاریکی کوٹھریوں میں گزرتا ہے۔ تاریخ جنگِ آزادی ہند 1857ء  جیسے واقعات سے بھری پڑی ہے، جہاں ہزاروں حریت پسندوں کو انگریز سامراج یا آمرانہ حکومتوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا  جیل کی کالی راتیں، غیر انسانی سلوک، اور بدترین جسمانی تشدد ان کے حوصلوں کو تو نہیں توڑ پاتا، لیکن ان کے جسم کو ضرور چھلنی کر دیتا ہے۔ سخت مشقت، ناقص خوراک، اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث بہت سے مزاحمتکار قید میں ہی جامِ شہادت نوش کر جاتے ہیں۔

آزادی کی راہ پر چلنے والوں کے لیے معاشی مشکلات بھی ایک بہت بڑا امتحان ہوتی ہیں۔ حکومتی انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں ان کی جائیدادیں ضبط کر لی جاتی ہیں، کاروبار تباہ کر دیے جاتے ہیں، اور نوکریوں سے برطرف کر دیا جاتا ہے۔ ان کے  خاندانوں کو معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے بچوں کی تعلیم اور پرورش شدید متاثر ہوتی ہے۔ اس معاشی ناکہ باری کا مقصد حریت پسندوں/آزادی پسند کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے، لیکن ان کا نظریہ ان کی سب سے بڑی دولت ہوتا ہے جس پر وہ سمجھوتہ نہیں کرتے۔

آزادی کی راہ پر چلنے والوں کی ذاتی زندگی سخت نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتی ہے۔ انہیں ہمیشہ اپنے خاندان کی حفاظت کی فکر لاحق رہتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے بچپن، والدین کی آخری ایام، اور بہن بھائیوں کی خوشیوں میں شریک نہیں ہو پاتے۔ اکثر انہیں اپنے ہی قریبی لوگوں کی بے رخی اور مخبری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو کہ کسی بھی انسان کے لیے سب سے بڑا صدمہ ہوتا ہے۔ تاہم، وہ ان تمام جذباتی اور ذہنی اذیتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں کیونکہ ان کا دل اس اعلیٰ مقصد کی لگن سے سرشار ہوتا ہے جس کے لیے وہ لڑ رہے ہوتے ہیں۔

وطن کے سرمچار جو کہ آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں کے صبح اور شام موت کے خوف اور غیر یقینی صورتحال میں گزرتی ہے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اگلا دن کیسا ہوگا، آیا وہ زندہ بھی بچیں گے یا نہیں۔ عدالتوں میں جھوٹے مقدمات، پھانسی کے پھندے، اور گولیوں کی بوچھاڑ ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تحریکِ آزادی میں شامل رہنماؤں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ۔ ان کی شہادتوں کے بعد ان کے اہل خانہ پر جو گزرتی ہے، وہ صبر اور استقامت کی ایک الگ داستان ہے۔

حریت پسندوں کی زندگی میں سب سے مشکل ترین پہلو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ وہ شاید اپنی دی گئی قربانیوں کا ثمر خود نہ دیکھ سکیں۔ وہ اپنی زندگی کی تمام توانائیاں آنے والی نسلوں کے محفوظ اور روشن مستقبل کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ وہ خود تو دشوار گزار راستوں، کانٹوں اور تاریک راتوں کا سامنا کرتے ہیں، لیکن آنے والوں کے لیے آزادی کی صبح کی نوید چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کی یہ بے لوث قربانی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہے، اور آنے والی نسلیں ان کی لازوال قربانیوں کی مرہونِ منت رہتی ہیں۔ اور انکی قربانیاں رہتی دنیا تک یاد رکھا جاتا ہے۔

آزادی کی راہ میں مشکلات کا شکار ہونے والے یہ لوگ تاریخ کے حقیقی ہیروز ہوتے ہیں، جن کی کہانیاں ہمیں حوصلہ اور تحریک دیتی ہیں کہ آزادی کوئی مفت ملنے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ خون، پسینے اور صبر مانگتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔