شہناز بلوچ منظرِ عام پر کیوں؟ – بادوفر بلوچ

59

شہناز بلوچ منظرِ عام پر کیوں؟

تحریر: بادوفر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

پاکستان اور چین بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے فدائی یونٹ مجید بریگیڈ کو مذہبی انتہاء پسند تنظیم داعش اور القاعدہ کے ساتھ جوڑا جاسکے اور اقوامِ متحدہ کے ذریعے بی ایل اے پر سخت پابندی عائد کی جائے، مگر دوسری طرف امریکہ سمیت باقی ممالک پاکستان اور چین کی اس بیانیہ کو بغیر ثبوت کے رد کر رہے ہیں۔ اس بنیاد پر پاکستان اور چین کے پاس کوئی ٹھوس شواہد و ثبوت نہیں ہیں۔

بہر حال دنیا کی طاقت ور قوتیں اپنی مفادات کی حفاظت کریں گی لیکن بی ایل اے آج اپنی قومی طاقت کو ایک قومی، سیاسی اور سیکولر تنظیم ہوتے ہوئے بھی بڑی حد تک دنیا کو باور کرانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو پہلی بار بی ایل اے کا اپنی کسی بلوچ جہدکار خاتون شہناز بلوچ کو بطور کمانڈر اور اعلیٰ قیادت سامنے لانا خود اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بی ایل اے ایک روشن خیال، انسانی مساوات کی بنیاد پر یقین رکھنے والی قوم پرست سیکولر تنظیم ہے۔

تاریخ کے اوراق ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر عالمِ جہاں میں کوئی بھی آزادی کی مسلح تحریک اپنی مسلح کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اپنی قومی و ریاستی تشکیل اور اپنی قومی و سماجی خد و خال کی اصل ہیت و شناخت کو دوران جدوجہد آشکار کر چکی ہو تو وہ قومی و عوامی حمایت حاصل کرکے بطورِ ایک قومی قوت کے ساتھ پوری دنیا کو منوانے میں کامیاب ہو جاتی ہے؛ کہ ہماری تحریک کسی بیرونی آلہ کاری یا بیرونی قوتوں کی تشکیل کردہ گروہی مفادات حاصل کرنے والی نہیں بلکہ ایک عوامی و سیاسی تحریک ہے۔

اس سچائی میں کوئی دورائے نہیں کہ عوامی حمایت کے بغیر کوئی بھی تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوگی مگر اس سچائی کو ثابت کرنے کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے کیا واضح پالیسیاں تنظیموں کے پاس ہیں؟

اس سوال کو میں ہمیشہ تلاش کرتا ہوں کیونکہ شارٹ ٹرم یا لانگ ٹرم عوامی حمایت اور شمولیت حاصل کرنے والی پالیسی اور حکمتِ عملی کا فقدان رکھنے والی تحریکیں اور تنظیمیں ہمیشہ اپنی موت آپ مر کر تاریخ میں اپنے مقام کی بجائے کہانیوں اور لطیفوں میں ملتی ہیں۔ مسلح کارروائیاں دشمن کو کاری ضرب تو لگا سکتی ہیں مگر عوامی پالیسی مرتب نہیں کر سکتیں۔

عوامی پالیسی مرتب اور عمل در آمد اس وقت ممکن ہوگا جب تنظیم اپنی مضبوط ادارہ جاتی پروسس طے کرکے اب مکمل ریاستی ڈھانچے کی شکل اختیار کر چکی ہو۔ طاقت اگر خوف کی بنیاد پر منحصر ہو تو وہ دراصل طاقت کی وہ شکل ہے جو اندرونی طور پر منتشر ہوتی ہے، ظاہری طور پر قوت دکھائی دیتی ہے مگر مستقبل میں قائم نہیں رہ سکتی۔

آج اگر بی ایل اے بطور بلوچ قومی نمائندہ تنظیم جس تیزی سے عوامی حمایت اور عوامی پذیرائی حاصل کر رہا ہے، اگر خدا نہ کرے بی ایل اے کی کوئی بھی معمولی غلط پالیسی عوامی پالیسی سے متضاد نمودار ہوئی تو بلوچ قومی امیدیں بکھرنے کی نوبت پورے قوم کو ایک دفعہ پھر مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دے گی۔

آج پورا بلوچستان دنیا کی نظروں میں اپنی جیوپولیٹیکل اہمیت کی وجہ سے آنے والے وقتوں میں ایک انتہائی پیچیدہ جنگ کی شکل اختیار کرے گا یا پھر بلوچ قوم اپنی قومی غلامی سے نجات حاصل کرکے ایک پرامن اور آزاد بلوچستان کا خواب پورا کرے گا۔

اسی عالمی پس منظر اور بی ایل اے کی بڑھتی ہوئی علاقائی و عالمی اثرِ و رسوخ کے تناظر میں اکثر مبصرین کے تجزیے اور تبصرے سوال بن جاتے ہیں: کیا واقعی بی ایل اے مستقبلِ قریب میں اپنی قومی قوت کو قومی تشکیل دے کر ایک ایسی قومی فوج کی شکل اختیار کرے گا جو آزاد بلوچ ریاست کی دفاع کے ساتھ بلوچ ریاست کی بحالی و برقراری اور عالمی قوتوں کی سرمایہ کاری کے تحفظ کو بلوچ قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ جوڑ کر مکمل ضمانت فراہم کرنے میں کامیاب ہو گا؟

مجھے نہیں لگتا کہ بی ایل اے کی جانب سے کمانڈر شہناز بلوچ کو منظرِ عام پر اس وقت لانا محض ایک عسکری حکمتِ عملی ہوگا، بلکہ عسکری حکمتِ عملی کے ساتھ قومی اور عالمی سطح پر ایک واضح اور غیر معمولی پیغام بھی ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق پاکستان اور چین کی کئی برسوں سے مسلسل کوشش یہ ہے کہ بی ایل اے کو عالمی سطح پر خاص کر اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں داعش اور القاعدہ کے ساتھ جوڑا جائے۔ پاکستان اور چین اپنی آخری حد تک کوشش کرتے رہیں گے کہ بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے اور وہ اس میں کامیاب ہوں۔

عالمی سطح پر یہ کامیابی اس وقت کامیاب ہوگی اور بی ایل اے کے وجود پر اثر انداز ہوگی جب بی ایل اے اپنی عوام میں اپنی حمایت کھو دے؛ ورنہ یہ عالمی پابندیاں عارضی ہوتی ہیں، مستقل نہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔