شہناز ابتداء نہیں آغاز
تحریر: ڈاکٹر امیر بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
ایک وقت تھا پنجابی قابض اپنی استعمارزدہ چکی میں دین اسلام کی اصل شناخت کو ڈال کر اس حد تک پیس پیس کر ایک مکسچر بنا کر اپنی حاکمانہ و چوہدری ازم تسلط کو بلوچستان پر قائم رکھنے کے خاطر بلوچ خواتین کو بلوچی روایات و اسلامی روایات کی من گھڑت، غیر منطقی اور انتہائی فرسودہ و لغو معنی میں پیش کیا جو ہنوز بھی جاری ہے۔ بدبختی اور بدقسمتی کہ یہی استعمارزدہ اور فرسودہ ذہنیت کا شکار وہی بلوچ طبقہ بھی ہوا جو خود بلوچ قومی پرستی اور بلوچ قومی آزادی کے علمبردار اور جہدکار تھے (اور اب بھی ہیں) جن کا دعویٰ انسانی مساوات و برابری تھا مگر عمل اور ذہنیت نے بلوچ خواتین کو عزت، غیرت، ننگ و ناموس، چادر اور چاردیواری کی تقدس کی علامت تک محدود کردیا۔
یہ ذہنیت و عمل بذات خود نہ ہی حقیقی اسلامی رویات تھے نہ ہی حقیقی بلوچی روایات؛ بلکہ صرف ۷۷ سالوں سے پنجابی استعمارزدہ، استعماری تخلیق تھا اور ہے جو بلوچ، پشتون اور سندھی اقوام پر اثرانداز ہوا اور کسی حد تک متاثر کن بھی ہوا اور آج تک نسبتاً بلوچ قوم میں کم، پشتون اور سندھی اقوام میں زیادہ اثر انداز رہا ہے۔
اگر آج بھی بلوچ قوم میں یہ اثرات ختم نہیں ہوئے بلکہ کم ہوچکے ہیں تو اس کی بنیادی اور اہم سبب قومی آزادی کی جنگ ہے کیونکہ جنگیں صرف قابض دشمن کی شکست اور محکوم قوم کی فتح کے لیے محض ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ محکوم قوموں کی اصل و تاریخی اقدار، شناخت، ثقافت، تاریخ، زبان اور تہذیب کی دوبارہ پہچان اور تشکیل بھی کرتی ہیں۔
آج بلوچ قوم مجموعی طور پر اپنی قومی و تاریخی تشکیل ازسرنو سے گزر رہی ہے اس لیے آج پنجابی قوم کے لیے باعث تکلیف اور باعث پریشانی اور کم فہم بلوچوں کے لیے بھی باعث حیرت ہے۔
تاریخ اپنے آپ کو دہرایا کرتی ہے؛ آج پہلی بار بی ایل اے نے اپنی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے میڈیا میں اعلان کرکے صدیوں پہلے بلوچ تاریخ کو ایک بار پھر شناخت و تخلیق کرکے کمانڈر بانڑی اور کمانڈر بی بی گل کی تاریخ کو اپنی موجودہ نسل کو بطورِ عمل مطالعہ کروایا کہ یہ ہے بلوچ تاریخ، یہ ہے بلوچ شناخت، یہ ہے بلوچ ثقافت۔
قوموں کی تاریخ کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ مسخ ہوتی ہے۔ ختم اور تحلیل اس وقت ہوتے ہیں جب قومیں اپنی شناخت، اپنی آزادی اور اپنی ازسرنو قومی تشکیل کے لیے جنگ سے گریزان ہوں۔ قومی جنگ قومی تاریخ کو زندہ کرتی ہے اور قومی تاریخ ہی قومی جنگ کو ایندھن فراہم کرتی ہے۔ کوئی بھی قوم اپنی ہی قومی تاریخ سے نابلد ہو کر کسی جابر و قابض کی تخلیق کردہ و مسخ شدہ تاریخ کو اپنی تاریخ اختیار کرے گی تو وہ قوم کبھی بھی قومی جنگ شروع بھی نہیں کرسکے گی اور نہ ہی قومی جنگ کا حصہ بن سکے گی۔
کیونکہ اپنی ہی مسخ شدہ تاریخ اپنی ہی ذہنیت کو مسخ کرتی ہے۔
مسخ شدہ ذہن کبھی قومی جنگ میں قومی بنیاد پر حصہ نہیں لے سکتا؛ اگر لے بھی لے تو وہ قومی جنگ میں تاریخی کردار ادا نہیں کرسکتا۔ آج کمانڈر شہناز بلوچ، بلوچ قومی تاریخ کی اصل شناخت کو پہچان کر بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں اپنا تاریخی کردار ادا کررہی ہیں۔ شہناز صرف ایک جنگجو کمانڈر نہیں بلکہ ایک مسخ شدہ تاریخ کو ازسرنو تشکیل دینے والی ایک تاریخی علامت ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔















































