بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئد بلوچ نے میڈیا کو جافی کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے زیارت کے علاقے میں ایک منظم عسکری آپریشن کے دوران قابض پاکستانی فوج کے دو کیمپوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے وہاں موجود تمام اسلحہ و گولہ بارود اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ دشمن کی کمک کے لیئے آنے والے فوجی و پولیس قافلوں کو گھات لگا کر نشانہ بناتے ہوئے انہیں شدید جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔
ترجمان نے کہا کہ ہفتے کے روز بی ایل اے کے سرمچاروں نے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت زیارت میں ”خرواری بابا” کے مقام پر قائم قابض پاکستانی فوج کے دو عسکری کیمپوں پر بیک وقت حملہ کیا۔ سرمچاروں نے مختلف سمتوں سے پیش قدمی کرتے ہوئے کیمپوں کا گھیراؤ کیا اور زبردست جھڑپ کے بعد کامیابی کے ساتھ دونوں کیمپوں پر مکمل کنٹرول قائم کرلیا۔ اس قریبی لڑائی کے نتیجے میں قابض فوج کے 9 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ شکست خوردہ دشمن کے دیگر اہلکار اپنی پوزیشنز اور ہتھیار چھوڑ کر میدانِ جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ کیمپوں پر قابض ہونے کے بعد، سرمچاروں نے وہاں موجود بھاری مقدار میں جدید عسکری اسلحہ، مواصلاتی آلات اور گولہ بارود کا ذخیرہ اپنے قبضے میں لے لیا، اور بعد ازاں دونوں فوجی کیمپوں کو نذرِ آتش کرکے مکمل طور پر تباہ کردیا۔
ترجمان نے کہا کہ دریں اثناء، سرمچاروں کے دیگر دستوں نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی قائم کر کے راستوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس دوران خرواری بابا کی طرف پیش قدمی کی کوشش کرنے والے قابض فوج اور پولیس کے امدادی قافلے کو سرمچاروں نے دو مختلف مقامات پر گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ ان کامیاب حملوں میں دشمن کے مزید 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ ان کی فوجی گاڑیاں بھی ناکارہ ہوگئیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ مقبوضہ بلوچستان کی مکمل آزادی اور قابض فورسز کے مکمل اخراج تک دشمن کے ٹھکانوں پر اس طرح کے منظم، مربوط اور فیصلہ کن حملے مزید شدت کے ساتھ جاری رہیں گے۔

















































