ایک اور نودان وطن پر قربان ہوا
تحریر: درخشان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج میں لکھ رہی ہوں ایک عظیم کردار، ایک بہادر جوان، ایک دلیر سرمچار کے بارے میں جو ہمارے لیے مخلصی، وفاداری اور دلیری کی مثال ہے۔ حیراس بلوچ نے اپنی جوانی اپنے دیس کے لیے قربان کر دی اور اپنی خواہشات دفن کر دیں۔ جب بھی ہم حیراس کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے زمین نے ایسے نوجوان پیدا کیے جو اپنے خواہشات، مال اور جان سب کچھ اپنے وطن کے لیے قربان کرتے ہیں۔
جب بھی حیراس کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے سے گزرتی ہے تو میں یہی سوچتی ہوں کہ ایک ایسا نوجوان جس کے ہم عمر آج بھی کھیلنے میں مصروف ہیں، لیکن حیراس کم عمری میں کیسے وطن کا سپاہی بن کر وطن کے لیے جنگ کرتا تھا؛ کیسے وہ مشکلات، بھوک، پیاس بغیر کسی شکایت کے خوشی سے برداشت کرتا تھا۔
اور اس کا اپنے بھائی سے محبت اتنی گہری تھی کہ اپنے نام کی جگہ اپنا بھائی کا نام (نودان) رکھا اور اپنے بھائی کے نقشِ قدم پر چل کر گُلزمین کے لیے شہید ہوا۔
آج میں اس نوجوان کے بارے میں لکھ رہی ہوں تو میرا دل لرز اٹھتا ہے کہ وہ بھی تو کسی کا بیٹا تھا، کسی کا بھائی تھا، کسی کا دوست تھا، لیکن سب کو چھوڑ کر اپنے وطن کا انتخاب کیا۔ وہ اپنے ماں باپ کا سب سے لاڈلا بیٹا تھا جو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔
حیراس ایک ایسا شخص تھا جو دل کا صاف تھا، جو سب کے ساتھ گُل مِل کر رہتا تھا۔ اپنے دوستوں میں لیڈر ہوا کرتا تھا؛ ہنسانے پر آتا تو بہت ہنساتا تھا۔ اور اس کے جذبات کا ایسا زور تھا کہ دشمن کے سامنے بیٹھ کر اسے یاد دلاتا تھا کہ اس نے میرے بھائی نودان کو شہید کیا ہے، جس کا بدلہ وہ ایک نہ ایک دن لے کر رہے گا۔
اس کی ماں جس نے دو بیٹے قربان کر دیے وطن کے لیے، مگر کمزور نہیں ہوئی۔ اس کا باپ جس نے ہر طرح کی پریشانیاں دیکھیں پھر بھی مسکراتا رہا۔ میں اُن سب سرمچاروں کے والدین کو سلام پیش کرتی ہوں، ان کے حوصلوں کو؛ کہ ان کے دو دو، تین تین کہیں جوان اولاد قربان ہوئے، لیکن آج بھی وہ مائیں اپنے بیٹوں کی قربانیوں پر فخر کر رہی ہیں اور آج بھی ان کے حوصلے وہی ہیں جو کل تھے۔
حیراس نے آپریشن ہیروف 2 میں حصہ لیا، جنگ کی، خاک کی حفاظت کے لیے اور کامیاب ہوا۔ ڈرون کا نشانہ بنا اور اپنا یہ چمکتا چہرہ وطن پر قربان کر دیا۔ حیراس صرف ایک شہید نہیں، وہ ایک عظیم کردار کی مثال ہے۔ جب اس کا بڑا بھائی نودان شہید ہوا تو حیراس اسی دن سے اپنے بھائی کا بدلہ لینے کے لیے تیار تھا۔ اور وہ اپنے بھائی کی قربانی کے بعد خود کو مضبوط کیا اور اپنے آپ کو آنے والے وقت کے لیے تیار کیا۔ حیراس صرف اپنی ماں کے لیے نہیں بلکہ پورے بلوچستان کی ماؤں کے لیے فخر کا شمع بن گیا، جو اپنے باتوں پر ثابت قدم رہا اور اپنے دوستوں کے ساتھ آگے بڑھا۔ اور تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا۔ حیراس اگر آج ہمارے درمیان موجود نہیں بھی ہے تو وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا؛ جب بھی شہیدوں کا نام آئے گا، حیراس بھی انہی میں شامل ہوگا۔
ہمارے وطن کے شہید، فدائی، سرمچار، کمانڈرز سب جنہوں نے وطن کے درد کو سمجھا، وطن کی آزادی کا خواب دیکھا اور باقیوں کو بھی راستہ دکھایا، اصل زندگی تو انہی کی ہوئی، اصل جیت تو انہی کی ہے جنہوں نے عیش و عشرت کی زندگی چھوڑ کر وطن کو اپنا لیا۔ وطن سب کا ہے اور یہ وطن کا ہے۔
آخر میں میرا کہنا اتنا ہے کہ ہمیں اپنے بھائیوں، اپنے دوستوں اور اپنے شہیدوں کے راستے پر چلنا ہوگا۔ ہمت و بہادری کے ساتھ جینا ہوگا۔ وطن کے لیے لڑنا ہوگا۔ یہ وطن سب کا ہے؛ ہمیں دشمن کو ریزہ ریزہ کر کے یہاں سے بھگانا ہوگا۔ ہمیں ساتھ مل کر یہ جنگ لڑنی ہوگی، سانس و جان قربان کرنا ہوگا اور آزادی کا چراغ بننا ہوگا۔ اور ہمیں وطن کے لیے سب کچھ چھوڑ دینا ہوگا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































