بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) اور نیشنل پارٹی نے گوادر کے سرحدی علاقے کنٹانی ہور میں کوسٹ گارڈ کی فائرنگ سے مزدوروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
بی این پی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان کے دعویدار حکمران بارڈر اور کاروبار بند کرکے بلوچستانی عوام سے جینے کا حق چھین رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان بھر میں چیک پوسٹوں پر مبینہ بھتہ خوری کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا، لیکن روزگار کے لیے بارڈر پر جانے والے مزدوروں کو تشدد اور فائرنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کو دبانے کے بجائے اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
دوسری جانب نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کوسٹ گارڈ کی جانب سے نہتے مزدوروں پر فائرنگ وحشیانہ، قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش افراد اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لیے روزگار کی تلاش میں نکلے تھے مگر انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔


















































