بلوچستان کے ضلع قلات میں پاکستانی وزارتِ دفاع (MoD) کے ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (ASF) کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور کمانڈنگ آفیسر وسیم احمد کے زیرحراست ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بلوچ عسکریت پسندوں نے انہیں قلات کے قریب مرکزی شاہراہ پر ایک ناکہ بندی کے کارروائی کے دوران روکا، جس کے بعد اس کو اپنے ہمراہ لے گئے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وسیم احمد سرکاری ڈیوٹی کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔
وسیم احمد اس وقت ژوب میں تعینات تھے۔ اس سے قبل وہ ملتان، کراچی اور پنجگور میں تعینات رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر بننے کے بعد انہیں کراچی اور ژوب میں تعینات کیا گیا۔
پاکستانی حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ واقعے نے بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر کو گرفتار کرنے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم حالیہ دنوں بلوچ لبریشن آرمی نے ہرنائی اور اس سے قبل “آپریشن ہیروف فیز ٹو” کے وقت خضدار کے علاقے اورناچ سے سات پاکستانی فوجی اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا۔
جولائی 2022 میں بلوچ لبریشن آرمی نے زیارت سے پاکستان فوج کے کرنل لئیق بیگ کو ایک ‘انٹیلی جنس بیسڈ’ آپریشن میں گرفتار اور بعدازاں ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

















































