اسلامی تاریخ کے تناظر میں خواتین کا جنگی اور مشکل حالات میں اھم کردار
تحریر : مولانا ضیاء الرحمن
دی بلوچستان پوسٹ
اسلامی تاریخ کے تناظر میں خواتین نے جنگی اور مشکل حالات میں نہایت اہم، باوقار اور متوازن کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کردار صرف ایک پہلو تک محدود نہیں تھا بلکہ وسیع ، کثیر الجہتی اور کئی میدانوں میں نظر آتا ہے:
1۔زخمیوں کی خدمت اور طبی امداد
جنگوں میں خواتین کا سب سے نمایاں کردار زخمیوں کی دیکھ بھال تھا۔
مثال کے طور پر حضرت رفیدہ اسلمیہ(رضی اللہ عنھا)کو اسلامی تاریخ کی پہلی نرس کہا جاتا ہے۔ انہوں نے غزوات میں زخمیوں کا علاج کیا اور ایک طرح کا ابتدائی فیلڈ ہسپتال قائم کیا۔
اسی طرح حضرت ام عطیہ انصاریہ(رضی اللہ عنھا)بھی جنگوں میں شریک ہو کر زخمیوں کی خدمت اور مجاہدین کے لیے سہولیات فراہم کرتی تھیں۔
2۔رسد اور سپورٹ (پانی، خوراک، سامان)
خواتین میدانِ جنگ میں مجاہدین کو پانی پلانے، کھانا پہنچانے اور دیگر ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔
مثال: حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ام سلیم (رضی اللہ عنھما) غزوات میں پانی پہنچانے اور زخمیوں کی مدد کرتی تھیں۔
3۔دفاعی کردار (ضرورت کے وقت)
اگر حالات سخت ہو جاتے تو خواتین براہِ راست دفاع میں بھی حصہ لیتی تھیں۔
سب سے مشہور مثال حضرت نسیبہ بنت کعب ( رضی اللہ عنھا) ہیں، جنہوں نے غزوۂ احد میں تلوار اٹھا کر ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کا دفاع کیا اور شدید زخمی ہوئیں۔
4۔حوصلہ افزائی اور معنوی طاقت
خواتین مجاہدین کے حوصلے بلند کرتی تھیں اور انہیں ثابت قدم رہنے کی ترغیب دیتی تھیں۔
مثال کے طور پر حضرت خنساء (رضی اللہ عنھا)نے اپنے بیٹوں کو جہاد کے لیے تیار کیا اور انکے چار بیٹے جنگ قادسیہ میں جھاد و قتال کے میدان میں جوھر شجاعت دکھاتے ہوئے جام شہادت نوش فرما گئے اس پر اس نے صبر و استقامت کی عظیم مثال قائم کی۔
جنگ سے متاثرہ ، خصوصا بچوں اور خاندانوں کو ذہنی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے – خواتین ماں ، بہن یا مشیر کے طور پر حوصلہ دیتی ہیں اور معاشرتی استحکام برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہیں –
5۔ہجرت اور قربانی
جنگی حالات میں ہجرت بھی ایک بڑا امتحان تھا۔
ہجرت مدینہ کے دوران خواتین نے گھر، مال اور وطن چھوڑ کر عظیم قربانیاں دیں۔
مثال: حضرت ام سلمہ (رضی اللہ عنھا) نے ہجرت کے دوران شدید مشکلات برداشت کیں۔
خواتین ہجرت کے دوران پناہ گزینوں کی مدد میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں –
6تعلیم اور تربیت
جنگ کے باوجود خواتین نے علم اور دین کی تعلیم کو جاری رکھا، جو بعد میں معاشرے کی اصلاح اور استحکام کا سبب بنا۔
حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنھا) کا علمِ حدیث اور فقہ میں بڑی مقام تھا، جن سے ہزاروں افراد نے علم حاصل کیا۔
جنگی حالات میں بھی بچوں کی تعلیم جاری رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے – خواتین بطور اساتذہ نئی نسل کی ذہنی اور اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں تاکہ معاشرہ تباہ نہ ہو –
بچوں کو جھاد فی سبیل اللہ، آزادی ، اسلامی تاریخ و تعلیمات ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوات و سرایا ، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم کے جھادی واقعات و کارنامے ، مسلمان فاتحین کے جنگی حالات سنایا کریں اور بلوچ قوم کے ماضی میں گزرے ہوئے جھادی رہنماؤں کے واقعات و کارناموں سے روشناس کرکے مستقبل کے قومی و جھادی رہنماء کے طور پر تیار کریں –
تاکہ ہماری نئی نسلیں ایک ایسے انداز سے ذہنی ، جسمانی ، روحانی ، اخلاقی اور فکری طور پر پروش پائیں کہ کل کو قوم کی پوری قوت و حوصلہ مندی ، دانائی و دانشمندی اور بہادر ی کے ساتھ رھبر ی و رہنمائی کرسکیں ـ
اسلامی نظام کے نفاذ ، بلوچ قوم اور وطن کی آزادی کے لئے جان کی بازی لگانے والے مجاھدین کے ساتھ مالی تعاون ، عوامی حمایت و رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے ایسے حکیمانہ ، خفیہ و ماہرانہ انداز سے کام کریں کہ جس سے وہ خواتین دشمن کے
ظلم و جبر سے حتی الامکان محفوظ رہ سکیں ۔
7۔صبر و استقامت کی مثال
اسلامی تاریخ میں خواتین نے شہادتِ عزیزان، مشکلات اور آزمائشوں میں صبر کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں، جو پورے معاشرے کے لیے حوصلے کا باعث بنیں۔
8- گھریلو نظام کا استحکام
جب مرد جنگ میں مصروف ہوں ـ تو خواتین گھر ، بچوں اور معیشت کو سنبھالتی ہیں ، جس سے معاشرہ مکمل طور پر بکھرنے سے بچتا ہے ـ
9- امن سازی
جنگ کے بعد یا دوران جنگ خواتین امن کے قیام اور استحکام برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں ـ
خلاصہ
اسلامی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ خواتین: میدانِ جنگ میں معاون تھیں۔ انسانی خدمت میں آگے تھیں، ضرورت پڑنے پر دفاع بھی کرتی تھیں اور معاشرے کی روحانی و اخلاقی بنیاد کو مضبوط رکھتی تھیں۔ یہ ایک متوازن اور باوقار کردار تھا، جس میں بہادری، خدمت اور حکمت تینوں شامل تھیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































