غلامی کی زندگی سے آزادی کی موت بہتر – شاہین

24

غلامی کی زندگی سے آزادی کی موت بہتر

تحریر: شاہین

دی بلوچستان پوسٹ

کائنات میں کچھ سودے ایسے ہوتے ہیں جنہیں عام انسانی عقل سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ اپنی بوڑھی ماں کی ممتا کو الوداع کہنا، جوان بیوی کے سہاگ کی رنگینیوں کو پسِ پشت ڈالنا، اور معصوم بچوں کے بچپن کی توتلی زبان کو چھوڑ کر پہاڑوں کی سنگلاخ چٹانوں کو اپنا پناہ گاہ بنا لینا، یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے۔

یہ وہ جنونِ وفا ہے جو صرف ان عظیم ہستیوں (سرمچاروں) کے حصے میں آتا ہے جن کا دل اپنی مظلوم قوم کی بے بسی دیکھ کر خون کے آنسو روتا ہے۔ وہ محلوں اور بستروں کی راحت پر پہاڑوں کی سرد ہواؤں، بھوک، افلاس، پیاس اور کٹھن راستوں کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک غلامی کی زندگی سے آزادی کی موت ہزار درجے بہتر ہوتی ہے۔ ان کا فلسفہ یہی ہوتا ہے۔

وہ کسی ذاتی مسئلے، نام یا شہرت کے لیے نہیں لڑتے۔ وہ پہاڑوں پر اس لیے پہرہ دیتے ہیں تاکہ وادیوں میں رہنے والے ان کے بھائی بہن امن کی سانس لے سکیں۔ وہ ظالم کے جبر کے سامنے اپنی چھاتی تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنی مٹی کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیتے۔

ظالم اپنی فرعونیت میں یہ سمجھتا ہے کہ ان کی شہادت کے بعد ان کے جسدِ خاکی کو گاڑی میں باندھ کر گھسیٹ کر، ان کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے، انہیں کفن کی سفید چادر سے محروم رکھ کر، اور ان کی میتوں کو بے نام و نشان کر کے دفن ہونے کے حق سے بھی محروم کر کے وہ اس طرح ہمارے دلوں سے انقلاب و مزاحمت کو نکال دے گا اور ہمارے نظریے کو تبدیل کر دے گا۔ مگر یہ ظالم کی تاریخ سے ناواقفیت ہے۔ یہ تو ایک جان ہے، بلوچستان کی آزادی کے لیے ایسی ہزاروں جانیں قربان۔

جو لوگ جہدِ آزادی اور مٹی کی بقا کے لیے لڑتے ہیں، وہ کسی مٹی کے ڈھیر (قبر) کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کا کفن وہ سرخ خون ہوتا ہے جو شہادت کے وقت ان کے جسم سے بہتا ہے، اور ان کا لہو وہ بارانِ رحمت بنتا ہے جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر برستی ہے۔ ان کے جسم کے ٹکڑے جہاں جہاں گرتے ہیں، وہاں کی مٹی گواہی دیتی ہے کہ یہاں غیرت کا جنازہ نہیں بلکہ ظالم کی موت واقع ہوئی ہے۔ ان کے مزار کسی قبرستان کی چار دیواری میں نہیں ہوتے بلکہ وہ اس دھرتی کے ذرّے ذرّے میں ہوتے ہیں، ہواؤں کے جھونکوں میں، اور اپنی قوم کے ہر غیرت مند انسان کے دل میں ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔

ان عظیم قربانیوں کے پیچھے ان کے گھر والوں کی بھی قربانی کی ایک الگ داستان ہوتی ہے۔ وہ ماں جو ہر آہٹ پر دروازے کی طرف دیکھتی ہے، وہ بیوی جو تنہائی کاٹتی ہے، اور وہ بچے جو باپ کے سائے کو ترستے ہیں۔ ان کا صبر بھی اس جنگ کا حصہ ہے۔ لیکن جب ان کے پیاروں کی بے کفن شہادت کی خبر آتی ہے تو آنکھوں میں آنسو ضرور ہوتے ہیں مگر سر فخر سے آسمان کو چھو رہے ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا پیارا بزدلوں کی طرح بستر پر نہیں مرا بلکہ غیرت کی بلند ترین چوٹی پر جان دے کر سرخرو ہوا ہے اور جہدِ آزادی کی راہ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔

ان بے قبر اور بے کفن سرمچاروں کا لہو پوری بلوچ قوم پر ایک قرض ہے۔ وہ ہمارے لیے اپنے جسموں کے ٹکڑے کروا رہے ہیں، اب ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے مشن، ان کی یاد اور ان کے نظریے کو کبھی مرنے نہ دیں۔ جب تک ان پہاڑوں سے حق کی آواز گونجتی رہے گی، ظالم کبھی سکون کی نیند نہیں سو سکے گا۔

سلام  ان گمنام سرمچاروں پر جو اپنی پُرسکون زندگی کی ہر آسائش کو چھوڑ کر ہماری آنے والی نسلوں کے لیے پہاڑوں کی پناہوں میں دن رات گزار رہے ہیں، جن کی قربانی نے ظلم کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاریخ انہیں ہمیشہ آزادی کے سچے سپاہیوں کے طور پر یاد رکھے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔