کیچ: مزید ایک بلوچ خاتون پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ

0

پاکستانی فورسز نے خاتون کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز نے رواں ماہ 14 اپریل کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے سنگ آباد میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر بائیس سالہ گل بانک ولد تاج محمد کو حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے۔

لواحقین اور بی وائی سی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد گل بانک تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں، جبکہ اہل خانہ ان کی زندگی کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ بلوچستان سے پانچ بلوچ خواتین جبری گمشدگی کا نشانہ بنی ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں تقریباً 15 خواتین جبری گمشدگی کا شکار ہوچکی ہیں۔

رواں ماہ اپریل میں بلوچستان سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والوں میں کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے لاپتہ ہونے والی خدیجہ بلوچ، گزشتہ شب خضدار سے جبری لاپتہ ہونے والی سمینہ دوست محمد، کراچی کی نیول کالونی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی آواران کی رہائشی حسینہ بلوچ، 10 اپریل کو کراچی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی شکیلہ زوجہ نصیر اور 14 اپریل کو جبری لاپتہ ہونے والی بائیس سالہ گل بانک ولد تاج محمد شامل ہیں۔

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گزشتہ سال بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی کوئٹہ سے ماہ جبین بلوچ، حب چوکی سے نسرینہ بلوچ ولد دلاور اور حیرنثاء تاحال لاپتہ ہیں، حب و خضدار سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی حیات بی بی، فاطمہ بلوچ اور حانی بلوچ بازیاب ہو چکی ہیں۔

جبکہ حب سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والے ہاجرہ بلوچ زوجہ ثناء اللہ، تربت سے روبینہ بلوچ ولد محب اللہ کے حوالے مزید کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

مزید برآں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی مزید دو خواتین، فرزانہ زہری اور رحیمہ بی بی کو بلوچستان حکومت نے مسلح تنظیموں کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار ظاہر کیا تھا۔