جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ، تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں آج 6148ویں روز بھی جاری رہا۔
اس دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس موقع پر وی بی ایم پی کے سیکریٹری جنرل حوران بلوچ بھی موجود تھے۔
اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں نہ صرف آئینِ پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی سنگین پامالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو قانون کے دائرے سے ہٹ کر لاپتہ کرنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے، اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو آئین کے تحت تحفظ فراہم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ گزشتہ کئی برسوں سے اذیت، بے یقینی اور ذہنی کرب کا شکار ہیں، جو ایک سنگین انسانی المیہ بن چکا ہے۔ خواتین، بچے اور بزرگ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، مگر انہیں انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا۔
نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے یا رہا کیا جائے، اور جبری گمشدگیوں میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف اور غیر جانبدارانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، وی بی ایم پی کا پُرامن احتجاج جاری رہے گا۔
















































