ڈی ریڈیکلائزیشن یا شناخت پر کنٹرول؟ – ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

109

ڈی ریڈیکلائزیشن یا شناخت پر کنٹرول؟

تحریر: ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گزشتہ سال کوئٹہ میں ایک دوپہر، جب میں اسپنی روڈ سے گزر رہی تھی، تو ایک ایسا منظر سامنے آیا جو بظاہر ایک معمول کی پولیس کارروائی تھی مگر درحقیقت وہ ایک گہرے نفسیاتی تشدد کا علامت تھا۔ ایک پولیس اہلکار کے پاس بلوچی چادروں کا ڈھیر موجود تھا جبکہ قریب ہی تین نوجوان ایک کونے میں بیٹھے تھے، خاموش، منتظر، اور ایک غیر یقینی کیفیت میں معلق۔ ان کی چادریں ان سے چھین لی گئی تھیں اور ان کی موٹر سائیکلیں بھی ضبط کر لی گئی تھیں۔ یہ کوئی اتفاقی یا انفرادی واقعہ نہیں تھا؛ چادروں کے اس ڈھیر سے واضح تھا کہ یہ ایک منظم عمل ہے۔ اس لمحے شدت سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ یہاں مسئلہ چند افراد کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی وجود کا ہے، ایک ایسی شناخت کا، جسے اب ریاست پاکستان نے مشکوک اور پسماندہ قرار دیا ہے۔

یہ منظر میرے لیے اجنبی نہیں تھا بلکہ ایک طویل عرصے سے سنی گئی اور جھیلی گئی حقیقتوں کی ایک ٹھوس تصدیق تھا۔ 2014 میں جب میں نے Bolan Medical College میں داخلہ لیا، تو مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ذریعے بلوچستان کے اندرونی حالات کو سمجھنے کا موقع ملا۔ مکران سے تعلق رکھنے والی ایک سہیلی نے بتایا کہ کس طرح وہاں لوگوں کو محض بلوچی لباس، بلوچی چادر، یا حتیٰ کہ بالوں کے انداز، کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ باتیں اس لیے بھی ناقابلِ تردید تھیں کیونکہ بچپن میں خضدار میں ہم خود ریاستی جبر کے مختلف مظاہر دیکھ چکے تھے۔ جبر کے یہ مناظر ان تمام سنی سنائی حقیقتوں کو ایک عینی اور ناقابلِ انکار تجربے میں بدل دیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ذاتی مشاہدہ ایک بڑے نظریاتی سوال میں ڈھل جاتا ہے: کیا ریاستی تشدد محض نظم و ضبط کے قیام کا ذریعہ ہے، یا یہ ایک منظم منصوبہ ہے جس کے تحت شناخت کو کنٹرول اور ازسرِنو تشکیل دیا جا رہا ہے؟

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ محض ایک سیکیورٹی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل کا حصہ ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ہزاروں افراد لاپتہ کیے جا چکے ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس مسئلے پر نہ صرف مقامی سطح پر مزاحمتی تحریکیں ابھری ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں پر بات کی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی بیانیہ مسلسل اس مسئلے کو متنازعہ بنانے، اس کی شدت کو کم ظاہر کرنے، یا اسے عالمی تناظر میں معمولی قرار دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جبری گمشدگیاں کسی بھی طرح “سیکیورٹی” کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی پالیسی کی ہے جو “structural violence” اور براہِ راست “نسل کشی” ہے۔

اسی تسلسل میں “بلوچستان پریوینشن اینڈ ڈی ریڈیکلائزیشن” ایکٹ کا نفاذ محض ایک قانونی پیش رفت نہیں بلکہ ریاستی طاقت کے دائرۂ اختیار کی ایک خطرناک توسیع ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی فرد کو بغیر واضح الزام کے حراست میں لیا جا سکتا ہے اور ایک مخصوص مدت تک اسے رہا کرنے کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔ اگرچہ اس قانون کو ایک “اصلاحی” اقدام کے طور پر پیش کیا گیا ہے، مگر اس کی ساخت اور اطلاق واضح طور پر “preventive detention” کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ سیاسی فلسفی Michel Foucault کے مطابق جدید ریاستی طاقت محض جسموں کو قابو میں نہیں رکھتی بلکہ وہ ذہن، شناخت اور رویوں کو بھی منظم کرتی ہے؛ طاقت کا اصل اظہار “disciplinary mechanisms” میں ہوتا ہے۔ اسی طرح Giorgio Agamben کے “state of exception” کے نظریے کے مطابق ایسے قوانین معمول کے قانونی ڈھانچے کو معطل کر کے ریاست کو ایک ایسی مطلق حیثیت دے دیتے ہیں جہاں شہری محض “bare life” میں تبدیل ہو جاتا ہے، یعنی ایسا وجود جس کے حقوق معطل کیے جا سکتے ہیں۔

اس قانون کا تقابل اگر سنکیانگ میں نافذ کیے گئے چینی ڈی ریڈیکلائزیشن ماڈل سے کیا جائے تو مماثلتیں واضح ہو جاتی ہیں۔ چین نے “ری ایجوکیشن” کے نام پر ایک ایسا نظام قائم کیا جس میں لاکھوں اویغور مسلمانوں کو بغیر عدالتی کارروائی کے حراست میں رکھا گیا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان مراکز میں نہ صرف جبری حراست بلکہ ذہنی دباؤ، ثقافتی شناخت کی بیخ کنی، اور مذہبی آزادی پر سخت پابندیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ کئی ماہرین نے ان اقدامات کو “cultural assimilation” یا حتیٰ کہ “cultural genocide” کے زمرے میں بھی رکھا ہے۔ یہ تقابل اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ ڈی ریڈیکلائزیشن جیسے تصورات اکثر سیکیورٹی کے نام پر شناخت کی تشکیلِ نو کے سیاسی ہتھیار بن جاتے ہیں۔

بلوچستان کے اندر حالیہ شواہد اور متاثرین کے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حراست کے دوران افراد کو نہ صرف جسمانی تشدد بلکہ شدید نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی تاریخ، زبان، موسیقی اور ثقافت کو کمتر یا پسماندہ تسلیم کریں۔ اس عمل کو سماجی ماہر Erving Goffman کے تصور “total institutions” کے تحت بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جہاں فرد کی سابقہ شناخت کو منظم طریقے سے توڑ کر ایک نئی شناخت مسلط کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں ڈی ریڈیکلائزیشن محض ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور ثقافتی انجینئرنگ کا عمل بن جاتی ہے، جس کا مقصد فرد کو اپنی اجتماعی جڑوں سے کاٹ دینا ہے۔

یہ قانون محض ایک نئی قانونی دستاویز نہیں بلکہ 1948 سے جاری ریاستی جبر کے تسلسل کا ایک نیا باب ہے۔ یہ اسی تاریخی عمل کی توسیع ہے جس میں طاقت کو قانون کا لبادہ پہنا کر اسے جائز قرار دیا جاتا ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ایسے مزید قوانین سامنے آئیں گے جو جبر کو “قانونی” اور مزاحمت کو “جرم” بنا دیں گے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح Turkey میں ایک وقت لفظ “کردستان” تک کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا؛ بعید نہیں کہ بلوچستان میں بھی اسی طرز پر شناخت کے الفاظ، نام، اور علامتیں بھی جرم قرار پائیں۔

یوں “بلوچستان پریوینشن اینڈ ڈی ریڈیکلائزیشن” ایکٹ ایک قانونی ضابطہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی (colonial mode of governance) کا مظہر ہے جس میں طاقت کا بنیادی ہدف فرد کا عمل نہیں بلکہ اس کی شناخت ہے، اور بلوچ کی ثقافتی و تاریخی پہچان ہی اسے مشتبہ اور قابلِ سزا ٹھہرانے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں یہ قانون نظم و نسق کے بجائے کنٹرول، اور سلامتی کے بجائے غلبے کی منطق کو تقویت دیتا ہے۔ یہی حقیقت ہمیں ایک نہایت بنیادی اور فیصلہ کن سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: کیا ریاستی سلامتی کے نام پر ایسے جبر کو اخلاقی یا قانونی جواز دیا جا سکتا ہے جو انسانی آزادی، شناخت اور وقار کو نہ صرف محدود کریں بلکہ انہیں مسخ کر کے ایک نئی، مسلط شدہ شناخت میں ڈھالنے کی کوشش کریں؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔