‎بریگیڈیئر ڈائر و بریگیڈئر ظفر اقبال کی کہانی – للّا بلوچ

1

‎بریگیڈیئر ڈائر و بریگیڈئر ظفر اقبال کی کہانی

تحریر: للّا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‎میں یہ تحریر لکھنے سے پہلے پہل افریقی مابعد نوآبادیاتی دانشور اومی کے بھابھا کی تخلیق کردہ مابعد نوآبادیاتی لغت سے پیشگی وضاحت دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نوآبادیاتی نفسیاتی کشمکش ” امبی ویلنس“ کا شکار قطعی نہیں ہوں کہ میں نوآبادیاتی تشدد کو زمان و مکان، فرد اور ادارے، نظام اور ڈھانچے کی روشنی میں مبہم سمجھوں کہ بقول اومی کے بھابھا نوآبادکار کئی دفعہ اپنی تشدد و نوآبادیاتی عمل کو نو آبادیات میں ایسے بیان کرتے ہیں کہ نوآبادیات کے باشندے  ایک ایسی ذہنی الجھن میں پھنسے رہتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں نوآبادکار کو کئی ذہنی سطحوں میں بیان کرتے کرتے مبہم رہتے ہیں۔ مثلاً ان کے لیے ایک ریاستی ادارہ عزت و ایک نفرت کے زمرے میں آتا ہے۔ بھابھا اسی نفسیاتی کشمکش کو ایمبی ویلنس کے لغت میں تشریح کرتے ہیں۔

‎لیکن میں اپنی وضاحت کو پہلے پہل اس لیے لکھ رہا ہوں کہ نہ میں بلال سرفراز کا داعی ہوں اور نہ ہی عاصم منیر، آصف غفور، شیرافگن و سرفراز علی کا اور نہ ہی میں بریگیڈیئر جنرل ڈائر و برگیڈیئر ظفر اقبال کو نفرت کی نگاہ سے پرکھتا ہوں۔ میری اومی کے بھابھا  کے ماننے والوں سے وضاحت ہے کہ میں یہ مضمون لکھتے وقت برگیڈیئر ظفر اقبال و برگیڈیئر جنرل ڈائر سمیت ہر وہ فرد سے اخلاقی، انسانی، شعوری، سائنسی اختلاف رکھتا ہوں جو نوآبادیاتی مشینری کے سائے تلے اپنی تشدد کو جواز بخشتے ہیں اور اپنی تشدد سے سماج میں جاری انقلابی شعور کو پنپنے نہیں دیتے۔ میں دراصل انسانی، شعوری و سائنسی بنیاد پر نوآبادیاتی تشدد کو بلاجواز، دہشتگرد، غیر اخلاقی و غیر انسانی عمل سمجھتا ہوں جو دنیا کے محکوم اقوام کی گل زمین پر ناجائز قبضہ کرکے، لوٹ مار کی نیت سے سیاسی نظام کو معطل رکھ کر سماج کے سارے اداروں کو ارادتاً مسخ کرکے بربریت و وحشت کا ماحول گرم رکھتے ہیں۔

‎دنیا کے ہر نوآبادیات میں نوآبادکار نے نوآبادیاتی تشدد کی رو سے اپنی قبضے کو وقتی دوام بخشا ہے اور نوآبادیاتی تشدد بھی کسی فرد، ادارے اور گروہ کی میراث نہیں بلکہ اس کا تعلق ہی نوآبادیاتی نظام کی اصل شناخت سے پوشیدہ ہے جس پر باعمل رہنا نوآبادکار کے وجود کا لازم و ملزوم حصہ ہے لیکن اسی ادوار تاریخ کی اوراق میں نوآبادیاتی مشینری سے وابستہ افراد و ادارے تشدد و جبر کے مرکزی کردار رہے ہیں۔ جنہیں بلوچستان میں سی ٹی ڈی و ایف سی، مقبوضہ ہندوستان میں انڈین برٹش آرمی اور انہی کرداروں میں برگیڈیئر ظفر اقبال و بریگیڈیئر جنرل ریگنالڈ ڈائر سرفہرست ہیں۔

‎مثلاً اعداد سے مثال لے لیتے ہیں کہ بریگیڈیئر جنرل ڈائر نے برطانوی نوآبادی ہندوستان میں جلیانوالہ باغ سانحے میں تین سو سے زائد نہتے لوگوں کا قتل عام کیا اور اسی طرح بریگیڈئیر ظفر اقبال جہاں کہاں فوجی کمان بطور ریجنل کمانڈنٹ تقرر ہوتے رہے ہیں تو وہاں خون کی ہولی کھیل کر رائے عامہ میں بطور محافظ و ہمدرد بن کر لیکچر دینے بھی پہنچ جاتے رہے ہیں۔ مشکے میں بدنامِ زمانہ ظفر اقبال نے درجنوں نہتے لوگوں کی لاشیں پھینکی ہیں اور جب ان کا تبادلہ پنجگور میں ہوا تو چند مہینوں میں تیس سے زائد مسخ شدہ لاشیں بیابانوں میں پڑے رہے اور ساتھ ہی وہ رائے عامہ میں کھلی کچہری و جامعہ مسجد خدابادان میں تقریر کرتے بھی نظر آئے ، وہاں بلوچوں کو دھمکیاں دیتے رہے کہ تحریکی کاموں سے لاتعلق رہیں، جن کے عزیز و اقارب کا تحریکی وابستگی ہے انہیں واپس لائیں وگرنہ سخت ترین نوآبادیاتی تشدد کا سامنا کریں۔

ظفر اقبال پنجگور میں تحریکی فضا کو بڑی چالاکی سے روندنے کی کوشش میں ہیں۔ مثلاً عام آبادی میں تحریکی حمایت کو نیست و نابود کرنے کی نیت سے اجتماعی تشدد کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں کہ تحریکی ساتھیوں کے عزیز و اقارب کو محض اس بنیاد پہ جبری گمشدگی و موت کا سامنا ہے کہ ان کے عزیز کیوں تحریکی وابستگی کی بنیاد پر آزادی کی جہد میں شامل ہیں اور ساتھ ہی اسی دوران مقامی تاجروں سے بھی تحریکی ارکان کا رابطہ منقطع کرنے، بنیادی ضروریات کی سپلائی روکنے کی نیت سے انہیں زد و کوب کا سامنا ہے۔ عام آبادی کو قومی تحریک سے دور رکھنے کی نیت سے اجتماعی تشدد پر عمل کرنے کے ساتھ انہی بے ہنگم حالات میں یوتھ انیگجمنٹ کے نام پر پرواز فاؤنڈیشن کے سائے تلے پنجگور میں واقع مکُران یونیورسٹی ، مساجد و تعلیمی اداروں میں دوروں کے ساتھ ساتھ کھلی کچہری و اسپورٹس ٹورنامنٹ کے ذریعے تحریکی آب و تاب و محصور کرنے کی کوشش میں مگن ہیں۔

‎میں اس دلیل کا بھی منکر ہوں کہ اسی انسدادِ بغاوت پالیسی کا بانی ہی ظفر اقبال ہے لیکن بلوچستان میں جہاں کہیں ان کی پوسٹنگ رہی ہے وہ اسی پالیسی کو بطور پہلی حروف استمعال کرتے رہے ہیں۔ مشکے کی مثال لیجئے، سال 2013 اور 2014 کے دوران بلوچستان بلخصوص مشکے میں جب قومی تحریک عام آبادی میں ایک طاقت کے طور پر اپنی وجود قائم کر رکھی تھی تو ان دنوں کرنل ظفر اقبال کو مشکے میں تعینات کر دیا گیا اور اسی دوران کرنل ظفر اقبال نے اجتماعی تشدد کی پالیسی کو مرکزی حیثیت دے کر انسدادِ بغاوت مہم کو توانا کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اجتماعی تشدد کی بنیاد پر تحریکی ساتھیوں کے عزیز و اقارب کو جبری گمشدہ کرکے ان کی لاشیں پھینکیں، تحریکی وابستگی کی بنیاد پر مشکے کی آبادی کو اجتماعی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا، دکانداروں کو زد و کوب کرکے تحریکی ساتھیوں کی راشن سپلائی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، ریاستی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈ کے ڈھانچے کو فعال بنایا اور اسی خوف کی فضا کو ریاستی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی نیت سے سماج میں تحریکی جذبات کو ورغلانے کی نیت سے اسپورٹس ٹورنامنٹ اور انٹریکٹب سیشن منعقد کیے۔

‎ یہ تحریر ظفر اقبال کی رویے سے نہ شکوہ ہے اور نہ ہی ان کو اسی تشدد کو ترک کرنے کا مشورہ بلکہ میں جانتے ہوئے یہ لکھ رہا ہوں کہ نوآبادیاتی تشدد اپنی وجود سے ہی پرایا، بے رحم، وحشت ناک اور انسانی اقدار کا متقاضی عمل ہے۔ چلتے چلتے جب ہم اپنی نوآبادیاتی تاریخ کے اوراق کو محفوظ کرتے رہیں گے تو نہ صرف ہم تحریکی فرزندان کی عقل و صلاحیت سے لیس عمل و قربانی کو رقم کریں بلکہ برگیڈیئر ڈائر و بریگیڈیئر ظفر اقبال کی بدنامِ زمانہ کردار کو بھی اپنی تاریخ کا حصہ بنائیں تاکہ ہماری آزاد نسل ،چین کی آزاد نسل کی طرح اپنی دشمن، ان کے اداروں سے وابستہ ہر وہ مکروہ چہرے کو پڑھیں جنہوں نے بطور نوآبادکار بلوچ سماج میں نوآبادیاتی تشدد کے ذریعے انسانی قتلِ عام کا بازار گرم رکھا۔

‎ہم مابعد نوآبادیاتی سماجی نفسیاتی خد و خال کو پرکھنے اور مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ نوآبادکار اپنی کثیر الجہتی تشدد سے نہ صرف مقبوضہ جات کے باشندگان کو غیر انسانی رویوں میں پھنسا دیتی ہے کہ وہ نوآبادکار کی تشدد کو من و عن قبول کرکے، ذہنی طور پر اسے نارملائز بنا کر ذہنی و عملی خاموشی کے سمندر میں غوطے مارتے رہیں بلکہ ساتھ ساتھ نوآبادکار کی تشدد کے وارث بھی آہستہ آہستہ تشدد کی دام میں اسی طرح گھس جاتے ہیں کہ وہ خود غیر انسانی رویوں کے مالک بن کر ابنارمل انسان کی شکل موڑ لیتے ہیں لیکن اسی دوران تشدد سے بلواسطہ متاثر نوآبادکار کا دانشور طبقہ بھی انہی واقعات اور ان سے جڑے اسباب کو پسِ پشت ڈال کر گہری نیند میں یوں سو جاتے ہیں گویا وہ انسانی زندگی، انسانی عظمت، انسانی آزادی اور انسانی اقدار کے انکاری ہوں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔