سارُو : صلابت ءِ دوام
تحریر: زمُل بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
اکتیس جنوری کو دالبندین سے ہونے والی ایک اہم رابطہ کال کے دوران، جب مورچوں کے اندر سے فدائین لمحہ بہ لمحہ زمینی صورتِ حال سے متعلق اطلاعات کمانڈر تک منتقل کر رہے تھے، انہی آوازوں کے ہجوم میں ایک آواز ایسی بھی تھی جو میرے حافظہ قلب میں ہمیشہ محفوظ رہی ہے۔ یہ وہی صدا تھی جو ہر دعا میں میرے ساتھ جڑی رہی، جو ہر پکار پر ایک مانوس جواب بن کر لوٹتی تھی، اور جو میری زندگی کے دشوار ترین لمحوں میں ہنسی، مزاح اور سکون کا استعارہ بن جاتی تھی۔ مگر اسی دن وہی آواز غیر معمولی بےخوفی کے ساتھ میدانِ عمل کی پیچیدہ صورتحال کو چیرتی ہوئی، کمانڈر کو نہایت ذمہ داری اور عزم کے ساتھ زمینی حقائق سے آگاہ کر رہی تھی۔
عجب نہیں کہ جس حقیقت سے میں مسلسل گریزاں رہا، جسے قبول کرنے کی ہمت میرے کمزور دل سے رفتہ رفتہ رخصت ہوتی گئی تھی، وہی حقیقت اب میرے سامنے ایک ناقابلِ انکار سچائی بن کر ٹھہر چکی ہے۔ وہ سچ، جسے میں کچھ دن قبل جھٹلانے کی کوشش کرتا رہا، اب مکمل طور پر آشکار ہو چکا ہے۔ اس لمحے، اس موڑ پر آنے والی آواز اور اس کال نے میرے دل پر ایسے نقوش چھوڑ دیے جن کی کیفیت خوشی، غم، فخر، درد اور ایک ان کہی سی تڑپ کے درمیان معلق ہے۔ دل میں ایک بےنام سا جذبہ ابھرا، دالبندین کی جانب بھاگنے کی خواہش، اور اس آواز کو اپنے لفظوں میں قید کرنے کی آرزو۔ یوں محسوس ہوا جیسے میں اس صدا کو اپنے قلم کے پروں پر سوار کر کے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لوں گا، جیسے میں اپنے لفظوں کو اجازت دے دوں کہ وہ اس آواز کو میرے لیے رقم کر دیں، اور ہر یاد، ہر لمحہ، ہر درد کو صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیں۔ مگر عجب کیفیت ہے کہ وہی آواز اب کئی مہینوں سے میرے وجود پر سوار ہے، اور میں کچھ بھی کر نہیں پا رہا۔ میرے پاس قلم بھی ہے، سیاہی بھی، مگر میں لکھنے سے قاصر ہوں؛ میری رگوں میں خون بھی دوڑ رہا ہے، مگر ہاتھ قلم اٹھانے سے انکاری ہیں۔ جب بھی میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں، میری آنکھیں دھندلا جاتی ہیں۔ میرے آس پاس موجود سنگت ساتھی اسے آنسو کہتے ہیں، مگر میں تو خود کو ہمیشہ وطن کے لیے سب کچھ قربان کرنے پر آمادہ پاتا ہوں، پھر یہ بےنام سی نمی کیوں؟ یہ کیسا بوجھ ہے جو ہر تحریر کے آغاز میں میرے سینے پر آ بیٹھتا ہے اور ہر روشنی کو دھند میں بدل دیتا ہے؟ میں نے بارہا ہر اس مقام کا سفر کیا، ہر اس یاد کو دوبارہ جیا، ہر اس شے کو چھو کر دیکھا جو اس سے منسوب تھی، مگر اس کے باوجود قلم بےبس ہے، اور دل خاموش۔
میں ساراوان پر لکھنا چاہوں تو آغاز کہاں سے کروں؟ اس کے بچپن سے، اس کی ادھوری خواہشوں سے، اس کی بےبسی سے، اس کے بےپناہ جذبے سے، وطن سے اس کی غیر مشروط محبت سے، یا اپنے دوستوں کے لیے اس کی جانثاری سے؟ یا پھر ان لمحوں سے جو ہم نے ایک ساتھ جئے، اس کی مسکراہٹوں سے، اس کی گفتگو سے، اس کے عزم سے؟ میں آغاز کہاں سے کروں؟ میں لکھ نہیں پا رہا، اور میری یہ بےبسی غم سے نہیں، بلکہ اس حقیقت کے بوجھ سے ہے جو میرے اندر مسلسل ایک فکری زلزلہ برپا کیے ہوئے ہے وہ حقیقت کہ اس انسان نے ایک وعدہ کیا تھا کہ ہم ساتھ، ایک ہی سنگر میں، ایک ہی مورچے میں کھڑے ہو کر لڑیں گے، مگر میری تیاری کے فقدان کے باعث وہ تنہا چلا گیا۔
یہی خیال میرے اندر ایک غیر معمولی ذہنی انتشار پیدا کر رہا ہے، ایسا انتشار جسے فلسفیانہ اصطلاح میں existential rupture کہا جا سکتا ہے، جہاں انسان اپنی ہی ذمہ داریوں اور انحرافات کے درمیان معلق ہو جاتا ہے۔ افلاطون کہتا ہے کہ انسان کی اصل آزمائش اس کے علم میں نہیں، اس کے عمل میں ہے؛ اور شاید میں اسی آزمائش کے اس موڑ پر کھڑا ہوں جہاں علم موجود ہے مگر عمل تاخیر کا شکار ہے۔ نطشے کے مطابق “انسان وہی ہے جو اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ کو شعور کے ساتھ اٹھا سکے”، مگر میرا شعور آج اسی بوجھ کے نیچے لرز رہا ہے۔
جب میں سارُلی پر لکھنے کے لیے قلم اٹھاتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے جیسے لفظ مجھ سے بغاوت کر رہے ہوں؛ قلم میرے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے، پھر موبائل اُٹھاتا ہوں اور اسکرین پر انگلیاں رکتی نہیں اور الفاظ منتشر ہو جاتے ہیں، اور جب میں آواز میں اپنے احساسات قید کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو جملے بےترتیب ہو کر میری ہی سوچوں سے آزادی اختیار کر لیتے ہیں۔ شاید ایک لازوال انسان کو الفاظ میں قید کرنا ممکن ہی نہیں، اور شاید ایک فدائی کی حقیقت زبان کی حدوں سے ماورا ہوتی ہے۔ میں نہ تو بُرزکوئی جیسی عظیم قلمکار ہوں اور نہ ہی اتنا وسیع ظرف رکھتی ہوں کہ ایک فدائی کے وجود کو مکمل لفظوں میں سمو سکوں۔
ایک کمزور انسان کی حیثیت سے میں سارُو کی زندگی کو کہاں سے بیان کروں؟ پہلا منظر جو آج بھی میری آنکھوں کے سامنے زندہ ہے وہ اس کی سائیکل رائیڈنگ ہے؛ ہُدا کی گلیوں کے درمیان تیز رفتار ریس، اور اپنے مخصوص قہقہوں کے ساتھ زندگی کو جینے کا انداز۔ وہ ہُدا کی گلیوں میں بظاہر ایک عام سا، بےپروا سا لڑکا دکھائی دیتا تھا، مگر اس کے اندر ایک غیر معمولی فکری وسعت موجود تھی؛ وہ اپنے وجود سے بلند ہو کر سوچنے والا انسان تھا، جس نے انا، ضد اور ذاتی خواہشات کو شعوری طور پر پسِ پشت ڈال کر ایک بڑے مقصد کو منتخب کیا۔ وہ اس وطن کا وہ بیٹا تھا جس کی سوچ ذاتی حدود سے نکل کر اجتماعی شعور میں ڈھل چکی تھی۔
میں آغاز کہاں سے کروں؟ اس کے ابتدائی تربیتی دنوں سے، اس کے ساروان سے سارنگ ہونے کے مرحلے سے، یا اس لمحے سے جب وہ پہاڑی محاذ کی طرف روانہ ہوا؟ اُس آخری رخصت کے وقت مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے دل پر کسی نے ایک خنجر رکھ دیا ہو؛ یہ کوئی خوف نہیں تھا، بلکہ ایک داخلی ادراک تھا، ایک ایسا شعور جو انسان کو بغیر دلیل کے حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ شاید یہ کوئی الہام تھا، یا محض ایک داخلی بصیرت، مگر مجھے شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ اب ہماری ملاقاتیں ماضی کا حصہ بننے جا رہی ہیں؛ نہ صرف ملاقاتیں، بلکہ شاید گفتگو کا امکان بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔
وہ ایک دوست تھا، ایک ساتھی، ایک بھائی، جو ہر مشکل گھڑی میں میرے ساتھ کھڑا رہا۔ اس نے کبھی مجھے تنہا محسوس نہیں ہونے دیا، حتیٰ کہ جب میں خود اس سے دوری اختیار کرنے کی کوشش کرتا تھا تب بھی وہ میرے بوجھ میں شریک رہتا تھا، اور میری خاموشیوں میں بھی ایک موجودگی کی صورت برقرار رہتا تھا۔
خیر ۔۔۔ جس روز سارُو کو پہاڑی محاذ کی طرف روانہ ہونا تھا، اس سے ایک روز قبل میری اس سے آخری ملاقات ہوئی۔ وہ چند گھنٹوں پر محیط گفتگو آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے، اور اس کے چند جملے ایسے ہیں جو میری یادداشت میں مستقل طور پر محفوظ ہو چکے ہیں۔ اس نے بار بار یہی کہا کہ “پڑھو، خود کو تیار کرو، جس طرح بھی ممکن ہو تحریک سے جڑے رہو، اور کبھی اس سے جدا نہ ہونا۔” میں نے جب اس سے کہا کہ “سارُو، ہم نے تو ساتھ ہی جانا تھا”، تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ “ایڑو! تم تھوڑا بہت پڑھ لکھ لو، پھر میں خود تمہیں بلوا لوں گا۔” اس کے الفاظ وقتی تسلی تو بنے، مگر میرے اندر کا اضطراب کم نہ ہو سکا۔ وہ بار بار یقین دلاتا رہا کہ ہم ساتھ ہوں گے، حتیٰ کہ ایک ساتھ اس راستے کی انتہا تک بھی پہنچیں گے۔
جب رخصتی کا لمحہ آیا تو اس نے غیر معمولی سکون کے ساتھ کہا کہ “ہم تو ویسے بھی ساتھ ہیں، رخصت کیا کرنی ہے؟” میں نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھی میرا دل مکمل طور پر بوجھل تھا۔ اور جب وہ روانہ ہوا، تو ایک لمحے کے لیے اس نے پلٹ کر دوبارہ دیکھا ۔۔۔ وہ ایک نظر نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا احساس تھا جس نے میرے اندر پہلے سے موجود زخم کو جیسے مکمل طور پر مروڑ دیا ہو۔ یوں محسوس ہوا جیسے دل میں پیوست ایک پرانا خنجر کسی نے دوبارہ گھما دیا ہو۔ جیسے دل سے خون رس رہا ہو، جیسے ۔۔۔ جیسے وہ خنجر پوری طرح دل میں گھس چُکا ہو۔
اس کے بعد مجھے بھی ایک سفر درپیش تھا۔ انہی راستوں سے گزرتے ہوئے، جہاں ہر پہاڑ پر ہماری یادیں بکھری ہوئی تھیں۔ بولان آہ بولان ۔۔۔ ایک ایسے دوست کی یادیں جو اب خود اپنی ذات سے آگے نکل چکا تھا۔ وہ ہمیشہ یہی کہا کرتا تھا کہ ذاتی رشتے، وابستگیاں اور تعلقات اپنی جگہ، مگر مقصد اور تحریک کو کبھی مرنے نہیں دینا۔
مہینوں بعد جب اس سے دوبارہ رابطہ ہوا تو اس نے اپنی ایک تصویر بھیجی، جس میں وہ غیر معمولی طور پر مطمئن اور خوش دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا: “سارُو! ایلُمک انت کنفنگو نے دُن صحتمند مسُنُس” (سارُو! بھائی تمہیں کیا کھلا رہے ہیں کہ تم یوں صحت مند نظر آ رہے ہو؟) اس کے جواب نے ایک مختلف ہی دنیا کھول دی۔ اس نے کہا کہ “کیا بتاؤں، میں یہاں بہت مطمئن ہوں۔ اگر کبھی دو یا تین وقت کھانا نہ بھی ملے تو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں خوش ہوں، میں مطمئن ہوں کیونکہ میں تحریک میں اپنا حصہ ادا کر رہا ہوں۔ میں بےضمیر نہیں ہوں؛ میں اس جنگ کا حصہ ہوں۔”
اس کے بعد وہ لمحہ بھی آیا جب یہ حقیقت مجھ پر واضح ہوئی کہ ساراوان نے اپنا فدائی فیصلہ کر لیا ہے، اور وہ ایک ایسے مشن کی طرف جارہا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا۔ جنگ زدہ ماحول میں رشتوں کو معمول کے پیمانوں سے پرکھنا ممکن نہیں رہتا، کیونکہ وہاں تعلقات صرف خونی یا خاندانی نہیں رہتے، بلکہ نظریے، مقصد اور مشترکہ جدوجہد کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ اور شاید اسی لیے ایسے رشتے انسان کی ذات میں اس حد تک سرایت کر جاتے ہیں کہ ان کا ہر دکھ اپنا دکھ، اور ان کی ہر تکلیف اپنی تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے۔
میں نہیں جانتی کہ سارُو نے اپنی آخری لڑائی کیسے لڑی، اور نہ ہی یہ جان سکی کہ مغرب کے وقت جب اس نے اپنی شہادت کو گلے لگایا تو اس کی کیفیت کیا تھی۔ مگر ایک عجیب سی بات وہ ہمیشہ دہراتا تھا کہ “سوچو اگر میں تم سے پہلے استاد اسلم سے جا ملوں تو؟” اور میں ہر بار اس پر ناراض ہو جاتی تھی کہ یہ کیسی باتیں ہیں، ہم نے تو ساتھ ہی جانا ہے، اور ویسے بھی ان سے ملاقات کا حق میرا زیادہ بنتا ہے۔
یہ یادیں آج بھی بولان کے پہاڑوں میں زندہ ہیں؛ وہی بولان جس کے پہاڑوں کے درمیان ہم بیٹھ کر اپنے غلام وطن کی خاموش خوبصورتی کو اُستاد میر احمد کی آواز کے ساتھ دیکھا کرتے تھے، اور اس کے ہر منظر میں کھو جایا کرتے تھے۔ آج جب میں ہر اُس جگہ جاتی ہوں جہاں سارُو کے قدم نقش ہیں، تو ہر جگہ ایک غیر معمولی شدت کے ساتھ ساراوان کی موجودگی محسوس ہوتی ہے، جیسے وہ لمحے وقت کی گرفت سے آزاد ہو کر وہاں اب بھی موجود ہوں۔ اور پھر دل کے کسی نہاں خانے سے ایک ہی جملہ ابھرتا ہے کہ ساراوان کا بولان ابھی تک آزاد نہیں ہوا۔
آہ سارو! میں تمہیں کیسے بیان کروں، اور وہ بھی اس احساس کے بغیر کہ انجام کیا ہوگا؟ میں تمہیں کیسے لفظوں میں سموؤں جب میرا درد یہ ہے کہ میں تمہارے عظیم مقصد کو ان نااہل لوگوں کے سامنے واضح نہیں کر پاتی جو نہ تمہاری سوچ کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس قربانی کے مفہوم کو جس کے تم امین بنے۔ میں جتنا بھی سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں، اتنا ہی پیچھے رہ جاتی ہوں، کیونکہ میرے الفاظ ان کے فہم کی حدوں سے آگے نہیں جا پاتے۔ میں انہیں یہ کیسے سمجھاؤں کہ جس فانی زندگی پر وہ آج روتے ہیں، چند برسوں بعد وہ بھی اسی مٹی کے نیچے جا سوئیں گے، انہی قبروں میں اتر جائیں گے جہاں آج تمہارا وجود، تمہارا زندہ سا احساس دفن محسوس ہوتا ہے؛ ایسا انسان جسے میں مردہ کہنے کی جرات نہیں رکھتی، مگر وہ ایک ایسے مقصد کے لیے قربان ہوا جس کا نام وطن ہے۔
اور آخر میں شاید میرے پاس کہنے کے لیے صرف مُرید کا نظم رہ جائے:
ہیت مہراتا کہ بس نے آ سلیس
دے ہنا ہم چہرہ غا سیخا سلیس
صدخہ بالاد آ ہمو ہفتاد حور
دیرنا رنگٹ ہرا زیبہ سلیس
جھمرا کوکر کرے داڑے ہزار
رند ارٹ نا بیرا دا اُستا سلیس
زات ہنا جاتو بلم مسک چیوا
گیڑسے نا کد مشٹ دنیا سلیس
مس مقابل نور مہراتو مرید
خنک تلتل اُست سٹا ساہ سلیس
اے میرے خوبرو سارُو! بہت جلد حق ادا کر کے آؤں گی میں تمہاری مجلس پہ۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































