بلوچستان کی قاتل شاہرائیں – ٹی بی پی رپورٹ

204

بلوچستان کی قاتل شاہرائیں

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

میران مزار – چیف ایڈیٹر ٹی بی پی

اگلے روز دبئی کے لیئے سمیع کی پرواز طے تھی۔ سمیع واپس دبئی کی تپتی گرمی میں اترنے سے خوفزہ تھا، جہاں وہ پچھلے ایک دہائی سے اجرت پر مزدوری کررہا تھا۔ وہ ایک گھریلو بندہ تھا اور ان سب سے دور جانا اسے بلکل پسند نہیں تھا۔ زندگی کی تیسری دہائی میں قدم رکھنے والا، لمبا قد اور گھنی مونچھوں والا سمیع وقت سے پہلے بوڑھا ہوچکا تھا، وہ نا صرف اپنے پانچ بچوں کو پال رہا تھا بلکہ اپنے بہن بھائیوں کا بھی کفیل تھا جو کم عمری میں یتیم ہوچکے تھے، اور یہ تمام ذمہ داریوں سمیع کے کندھوں پر آگئیں تھیں۔ سمیع کی ایک بہن کو کینسر ہے اور واحد شخص جو اسکے علاج کا خرچہ اٹھا رہا تھا وہ بھی سمیع تھا۔

چھپیس اپریل سنہ 2019 کے بدخت دن، سمیع اپنے چار دوستوں کے ہمراہ کوئٹہ سے نوشکی سفر کر رہا تھا جب انکی گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔ نوشکی کے قریب سلطان چڑھائی وہ جگہ تھی جہاں انکی چھیاسی ماڈل کی کرولا کار ایک مسافر بس سے ٹکرا گئی اور سمیع کا خاندان اسی لمحہ میں اپنے واحد کفیل سے محروم ہوگیا۔

سمیع ایک طویل فہرست میں سے محض ایک نام ہے جو آئے روز بلوچستان کی قاتل شاہراوں پر اپنی جان گنوا رہے ہیں۔

بلوچستان حکومت کی اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کی سڑکوں پر روزانہ دو افراد لقمہ اجل بنتے ہیں یا زخمی ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب ‘دی بلوچستان پوسٹ’ کے اپنے اعداد و شمار اس سے کئی گناہ زیادہ ہیں جو ہم نے اپنی روز مرہ کی رپورٹنگ کی بنیاد پر جمع کی ہیں۔ بلوچستان میں رپورٹ ہونے والی سڑک حادثات تقریباَ دنیا بھر میں پیش ہونے والے سڑک حادثات کا دو اشاریہ پانچ فیصد بنتی ہیں جو کہ دنیا بھر میں فی کس پیش ہونے والے حادثات کا تقریباَ دُگنا ہے۔ خیال رہے کہ بہت سے حادثات ناقص مواصلاتی نظام ہونے کے باعث رپورٹ نہیں ہو پاتیں۔

یہ پریشان کردینے والے وقعات جو کہ ہر سال پہلے سے زیادہ پیش آرہی ہیں اپنے اندر واضح پیغام رکھتے ہیں کہ انکی روک تھام اب ناگزیر بن چکی ہے مگر حقیقت اسکے برعکس ہے۔ حکومت، جسے اب تک خود ہنگامی حالات کا اعلان کرکے احتیاطی اقدامات اٹھا لینا چاہیے تھے وہ پچھلے پندرہ سالوں سے خوابِ غفلت میں ہے اور سڑکوں کی حالت جوں کی توں ہے۔

بلوچستان کی سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات کے پیچھے کئی وجوہات کارفرما ہیں۔

بلوچستان کی بیشتر شاہرائیں دہائیوں پرانی ہیں اور موجودہ دور میں انکی خستہ حالت کی وجہ سے ان پر آئے روز حادثات پیش آتے ہیں، باوجود اس حقیقت کے کہ بلوچستان کی آبادی اب کئی گنا بڑھ چکی ہے، پھر بھی ان شاہراوں کو ترقی نہیں دی گئی۔ بلوچستان کی ایک اہم ترین شاہرہ آر سی ڈی یا این-25 ہے جو 813 کلومیٹر پر محیط ہے، جسے آج سے تیس برس قبل اس وقت کے معمول کی ٹریفک کے مطابق تعمیر کی گئی تھی مگر آج اسے ہزاروں کے حساب سے گاڑیوں کی آمدورفت کا بوجھ سنبھالنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے یہ شاہراہ بلوچستان میں سب سے خطرناک سڑک بن گئی ہے۔

بلوچستان کی زیادہ ترشاہرائیں دہری سڑکوں پر مشتمل ہیں، جو کہ بھاری ٹریفک کے لیئے کسی لحاظ سے موزوں نہیں جبکہ انکی تنگی کی وجہ سے بھی حادثات پیش آتے ہیں۔ ٹریفک کے نشانات نا ہونے کے برابر ہیں اور عالمی معیار کا نفاذ کہیں پربھی نظر نہیں آتا جبکہ علاقائی سطح پرکسی معیار کا تعین بھی آج تک ہو نہ سکا۔ بلوچستان کی حکومت اس بات کا اعتراف کرچکی ہے کہ انکے پاس اب تک ایک ٹریفک انجنئیر بھی کام نہیں کررہا۔

سامان لادنے پر بھی کوئی جانچ پڑتال نہیں ہوتی، شاہراوں پرسامان لادنے کے مخصوص ٹرکوں کے بجائے مسافر بسوں کے اوپر سامان لادنے کا منظر اب عام بن چکا ہے۔ بہت سی مسافر بسیں اپنے تہہ خانوں میں تیل اسمگل کرتے ہیں جسکی وجہ سے آگ لگنے کی بہت سے واقعات پیش آئے ہیں، جن میں مسافر جل کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسکے علاوہ شاہراوں پر ٹریکٹر جیسے کم رفتار گاڑیوں کے لیئے کسی الگ لائن کا تعین نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے تیز رفتار کار ان سے ٹکرا جاتی ہیں جبکہ شاہراوں پر تیکے موڑ اور ڈھلوانوں کی غیر معیاری کٹائی بھی حادثات کا باعث بنتی ہیں۔ جبکہ شاہراوں کے نزدیک بڑھتے ہوئے کاروبار کی حد نا رکھنے کی وجہ سے آبادی سڑکوں کے قریب منتقل ہوتی جارہی ہے، جو اکثر و بیشتر حادثات کا باعث بنتی ہے۔

حادثات کی وجہ وہ رکاوٹیں بھی بنتی ہیں، جو سیکیورٹی فورسز خاص طور پر فرنٹیئر کور قائم کرتی ہے۔ سیکیورٹی کی غرض سے شاہراؤں کے بغل میں قائم چوکیاں اور سڑک پر کھڑی کی گئی رکاوٹیں تمام تر ٹریفک قوانین کو پامال کرتی ہیں اور حفاظت کے بجائے یہ رکاوٹیں رات کے وقت مسافر بسوں کے ٹکراو کا باعث بنتی ہیں۔

بلوچستان میں ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کا نظام بھی خامیوں سے بھرا ہے، کسی بھی ڈرائیور کو لائسنس کے اجراء سے قبل نا کوئی تربیت دی جاتی ہے اور نا ہی کوئی امتحان لیا جاتا ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیئے ہمارے نمائندے نے کراچی میں رہتے ہوئے محض پانچ ہزار کے عیوض ضلع قلات سے اپنے لیئے لائسنس کا اجراء کرانے میں کامیاب رہا، اور ڈرائیونگ لائسنس کے لیئے اسے ایک مرتبہ بھی خود قلات جانا نہیں پڑا۔

بلوچستان بھر میں سڑک کے قوانین کے حوالے سے آگاہی ورکشاپس کا فروغ کسی سطح پر نظر نہیں آتا۔ ایک اندازے کے مطابق 90 فیصد مسافر بسوں کے ڈرائیور لمبے سفر نشے کی حالت میں طے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تا کہ تھکاوٹ محسوس نہ ہو، جبکہ اسکے برعکس انکی یہ عادت اموات کا باعث بن جاتی ہے۔

ایسے خطرناک شاہراؤں و حادثات کے باوجود، ان شاہراوں کے قریب ہنگامی بنیاد پر طبی امداد دینے کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ کسی بھی حادثے کی صورت میں زخمیوں کو سینکڑوں کلو میٹر دور نجی گاڑیوں میں بڑے شہروں کی طرف لیجانا پڑتا ہے، اسی وجہ سے زیادہ تر اموات راستے میں ہی ہوجاتی ہیں۔

پریشانی کی بات یہ ہے کہ حکام سڑک حادثات کی اہمیت کو قبول کرنے سے بیگانہ نظر آتے ہیں۔ جبکہ سڑک حادثات کو قدرتی حادثات قرار دے کر کوئی تحقیات نہیں ہوتی اور نہ ہی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں۔

بلوچستان کی شاہراوں پر موت کے اس رقص کو روکنے کیلئے حکام کو فالفور اقدامات اٹھانی پڑیں گی۔ جہاں عالمی تنظیمیں سکیورٹی فورسز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتی ہیں، وہیں فورسز کے حصے میں آنے والے سالانہ فنڈز سڑکوں کی تعمیر و ترقی کی نسبت تیس گنا زیادہ ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکام فنڈز کا رخ بلوچستان کی شاہراؤں کی طرف کردیں تاکہ شاہرائیں بہتر بناکر لوگوں کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔