کابل حملے میں 5 چینی شہری زخمی، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

305

مذہبی تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے افغان دارالحکومت کابل کے ایک ہوٹل میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

دوسری جانب چین نے کہا ہے کہ اس حملے میں اس کے پانچ شہری زخمی ہوئے ہیں۔

حملے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد اسلامک اسٹیٹ کی علاقائی شاخ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

یہ بات نہایت اہم ہے کہ گزشتہ برس کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے اسلامک اسٹیٹ افغانستان میں متعدد دہشت گردانہ حملے کر چکی ہے۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں اس کے پانچ شہری زخمی ہوئے ہیں۔

اس حملے میں جانی نقصان سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ طالبان کے مطابق اس واقعے میں ملوث تین حملہ آور ہلاک ہوئے جب کہ ‘اسلامک اسٹیٹ‘ کے مطابق اس کے دو جنگجو اس واقعے میں شامل تھے۔ ‘اسلامک اسٹیٹ‘ نے دونوں حملہ آوروں کے نام اور تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق دو غیرملکی رہائشیوں نے ہوٹل کی کھڑکیوں سے چھلانگیں لگائیں، جس کی وجہ سے زخمی ہوئے۔ ادھر کابل کے ایمرجنسی ہسپتال نے بتایا ہے کہ وہاں اکیس افراد کو منتقل کیا گیا، جن میں تین ہلاک شدگان بھی شامل تھے۔

پیر کے روز کابل کے مرکز میں واقع دس منزلہ لوگان ہوٹل میں داخل ہو کر فائرنگ کرنے والے دونوں حملہ آور ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ جان بچانے کے لیے ہوٹل کی کھڑکیوں سے کودنے والے دو افراد زخمی ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں اس عمارت سے دھوائیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے جب کہ مقامی افراد کے مطابق انہیں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔