تمپ: گومازی اور سرنکن میں چھاپوں کے دوران خواتین اور بچوں پر تشدد کا الزام

1

ضلع کیچ کی تحصیل تمپ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، پاکستانی فورسز نے گزشتہ شب گومازی میں گھروں پر چھاپے مارے۔ اس دوران خواتین پر تشدد بھی کیا گیا۔ رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ فورسز اہلکار ان کے موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیا بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ تاہم، کسی گرفتاری یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

علاوہ ازیں، گزشتہ روز پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے عدنان بلوچ اور ادھم بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارا اور اہلِ خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق، فورسز نے تمپ کے علاقے سرنکن میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر تلاشی لی۔ اس دوران پوچھ گچھ کے دوران بچوں اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور ان کے موبائل فونز بھی چھین لیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ گھر جبری طور پر لاپتہ کیے گئے عدنان بلوچ اور ادھم بلوچ کا تھا۔

ذرائع کے مطابق، ادھم بلوچ اور عدنان بلوچ آپس میں بھائی ہیں اور تاحال لاپتہ ہیں۔ ادھم بلوچ کو ریاستی حمایت یافتہ ایک مسلح گروہ نے 19 اور 20 اکتوبر کی درمیانی شب گھر سے اٹھا کر لاپتہ کر دیا تھا، جبکہ ان کے چھوٹے بھائی عدنان بلوچ کو پاکستانی فورسز نے 19 اگست 2026ء کو ہیرآباد ہوٹل سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد ابراہیم کے دونوں بیٹوں، ادھم بلوچ اور عدنان بلوچ، کی جبری گمشدگی سے قبل بھی ریاستی اہلکار تین مرتبہ ان کے گھر پر دستی بموں سے حملے کر چکے ہیں۔