عبدوئی بلیدہ بارڈر کراسنگ پوائنٹ 26 اکتوبر کو کھولنے کا اعلان، کاروباری افراد کا محدود اجازت ناموں پر تحفظات کا اظہار

60

ضلعی انتظامیہ کیچ کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹس کے مطابق، عوام کی سہولت اور کاروباری افراد کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی جی ایف سی ساؤتھ بلوچستان نے 26 اکتوبر کو عبدوئی بلیدہ بارڈر کراسنگ پوائنٹ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان گزشتہ روز سرکاری افسران، بلدیاتی نمائندوں، کاروباری و سماجی شخصیات اور عمائدین کے ساتھ ہونے والی ایک نشست کے دوران کیا گیا۔

دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ کیچ نے ضلع کیچ کے تمام کاروباری افراد اور گاڑی مالکان کو مطلع کیا ہے کہ آج، اتوار، 25 اکتوبر 2026 کو تربت نوبت کی 300 گاڑیوں کی فہرست جاری کی جائے گی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، فہرست میں شامل گاڑیاں پیر کے روز عبدوئی بارڈر پہنچ کر تیل لوڈ کریں گی۔

دی بلوچستان پوسٹ کے نیوز ڈیسک نے سرکاری اعلامیے کے بعد تیل کے کاروبار سے وابستہ متعدد چھوٹے بڑے گاڑی مالکان سے رابطہ کیا، جنہوں نے الزام عائد کیا کہ عبدوئی بلیدہ بارڈر کراسنگ پوائنٹ کھولنے کا اعلان محض ایک شوشہ ہے، کیونکہ ایف سی حکام نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر صرف چند من پسند افراد کے ناموں پر مشتمل فہرست جاری کی ہے۔

ان کے مطابق، اس کاروبار سے مکران سمیت بلوچستان بھر میں ہزاروں افراد وابستہ ہیں، لیکن حالیہ اجازت کے لیے ایف سی کی فراہم کردہ فہرستوں میں صرف ایف سی حکام کے من پسند افراد اور وہ طبقے شامل ہیں جو مبینہ طور پر بھتہ دیتے ہیں۔

گاڑی مالکان نے الزام لگایا کہ زمباد گاڑی کے ڈرائیور کو ہفتے میں ایک لوڈ سے 20 سے 30 ہزار روپے تک بچت ہوتی ہے، جس میں سے نصف رقم راستے میں قائم چیک پوسٹوں پر اہلکار وصول کر لیتے ہیں۔ ان کے بقول، اس صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام عام غریب لوگوں کے بجائے اپنے من پسند افراد کو نواز رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر بارڈر تمام لوگوں کے لیے کھولا جا رہا ہے تو پھر صرف چند افراد کو یہ اختیار کیوں دیا جا رہا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ کن گاڑیوں کو بارڈر جانے کی اجازت دی جائے؟ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی طرح انہیں بھی آزادانہ طور پر کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ بلاامتیاز تمام افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔