بلیدہ میں جبری گمشدگی کے بعد دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد، بی وائی سی کا تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ

21

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے بلیدہ میں جبری گمشدگی کے دو واقعات کے بعد مہران بلوچ اور 19 سالہ طالب علم یاسر کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ کمیٹی نے دونوں واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق، حاجی اکبر کے بیٹے مہران بلوچ، جو بلیدہ کے علاقے میناز کے رہائشی تھے، کو 16 نومبر 2025 کو پاکستانی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لے کر ایک فوجی کیمپ منتقل کیا تھا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان کی گمشدگی کے بعد اہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ 21 اکتوبر 2026 کو ان کی لاش ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے برآمد ہوئی۔

بی وائی سی کے دوسرے بیان کے مطابق، بلوچ خان کے بیٹے یاسر، جو میناز، بلیدہ کے رہائشی اور 19 سالہ طالب علم تھے، کو 2 مارچ 2026 کو فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکاروں نے ان کے گھر سے حراست میں لیا، جس کے بعد وہ لاپتا ہوگئے۔ بی وائی سی کے مطابق سات ماہ اور 18 دن بعد ان کی لاش بلیدہ کے علاقے سلو کور میں پھینکی گئی۔

بی وائی سی نے دونوں واقعات کو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، غیر قانونی حراست اور ماورائے عدالت قتل کے تسلسل سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات شہریوں کے بنیادی حقوق، خصوصاً حقِ زندگی، آزادی اور قانونی تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔

کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی شخص کو گھر سے اٹھا کر طویل عرصے تک لاپتا رکھنا اور بعد ازاں اس کی لاش ملنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ بیان میں قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کا فوری نوٹس لیں۔

بی وائی سی نے مطالبہ کیا ہے کہ مہران بلوچ اور یاسر کی گمشدگیوں اور اموات کے حالات کی آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی فرد یا ادارے کی ذمہ داری ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جائے۔