عام بلوچ سے سرمچار بننے تک کا سفر
تحریر: سرمست بزدار
دی بلوچستان پوسٹ
میں بھی ایک عام انسان کی طرح اپنی زندگی گزار رہا تھا؛ نہ گلزمین کا دکھ، نہ لاپتہ بہن بھائیوں کا دکھ۔ بس وہ انسان جو ہر صبح پیسہ کمانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے اور شام کو واپس گھر آتا ہے۔ اور اگر گلزمین کا دکھ یا لاپتہ بہن بھائیوں کا دکھ تھا بھی، لیکن ڈر کی وجہ سے بول نہ سکا اور نہ ہی اس کے خلاف جنگ کرنے کا سوچا۔
تو ایک دن جب میں سیاسی جلسے میں گیا اور وہاں لوگوں کی حالت دیکھی اور ان لوگوں کے آنسو، جو ہر دن اپنے پیاروں کے لیے بہاتے ہیں۔ ہر رات وہ سوتے نہیں، بس اسی انتظار میں کہ آج میرا بھائی آئے گا یا بہن یا باپ، لیکن صبح ہوتے ہی پھر وہی آنسو اور وہی تصویریں، جن کے لیے نہ کبھی سوئے اور پوری زندگی اسی آنسو کے ساتھ اور تصویر کے سامنے گزاری۔
تو کچھ دن بعد بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ہیروف کا اعلان کیا ذہن میں خیال آیا کہ اگر یہ بلوچ سرمچار اپنی گلزمین کی خاطر اپنی جان دے رہے ہیں اور سالوں سال پہاڑوں پر ہوتے ہیں اور پھر انہی پہاڑوں کے لیے اپنی جان تک کا قربان کر دیتے ہیں، پھر میں کیوں نہیں کر سکتا؟ اس ظالم کے خلاف کیوں نہیں لڑ سکتا جو ہر روز ہمیں رلاتا ہے؟ میں نے ایک سرمچار بننے کا فیصلہ کیا، لیکن کچھ وقت تک فیصلہ نہیں کر پایا کیونکہ میرے ذہن میں اکثر میرا خاندان آتا؛ یہی کہ اگر میں جاؤں گا تو سرکار گھر والوں کو ذلیل کرے گی اور بھائیوں یا بہنوں کو اٹھائے گی۔ اسی سوال نے مجھے بہت روکا، لیکن ایک دن ان سب کو ریجیکٹ کر کے ایک پکا سرمچار بننے کا فیصلہ کیا؛ وہ سرمچار جو کبھی شاید اپنے گھر کا نام نہ لے اور نہ کبھی ماں باپ یا بہن بھائیوں کے بارے میں بات کرے۔
کیونکہ اگر ایک سرمچار گھر سے نکلتا ہے وہ اپنے گھر کو بھول کر پورے بلوچ قوم کا درد اپنے سینے میں لے کر پہاڑوں پر نکلتا ہے اور اس ظالم کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہے اور اپنی ذاتی خواہشات، اپنی زندگی کا مقصد، گھر، شادی، سب کچھ گلزمین کے لیے قربان کرتا ہے۔
اس کے بعد میں سوچتا بھی رہا اور تنظیم کے دوستوں کا نمبر بھی ڈھونڈ رہا تھا، لیکن مل نہیں رہا تھا۔ تو میں نے اپنی کوشش جاری رکھی، آخر کار مجھے نمبر مل گیا اور دوستوں سے حال احوال کیا، لیکن انہوں نے کہا کہ راستے خراب ہیں اور آپ نہیں آ سکتے، فی الحال آپ کو صبر کرنا ہوگا۔
آخری وقت میں تربت میں تھا اور وہاں پر کام کر رہا تھا۔ اور ایک دن دوست نے میسج کیا کہ اگر آپ تیار ہو تو کل نکل جاؤ، پھر وہاں میں آپ کو سنبھالوں گا۔ تو میں بہت خوش ہو گیا اور مغرب کے ٹائم میں بازار کے لیے نکلا اور راستے میں مجھے ایف سی والوں نے پکڑا اور مجھے بہت مارا۔ مجھے تین گھنٹے چوک پر کھڑا کیا اور مارتے رہے۔ تو ایک نے میرا موبائل چیک کیا، تو تین گھنٹے بعد جب انہیں کچھ نہیں ملا تو مجھے چھوڑ دیا اور میری خوشی غم میں بدل گئی اور جو کچھ دوستوں نے ذمے لگایا تھا، وہ سب کچھ چھوڑ کر واپس اپنے ٹھکانے پر گیا۔
اور صبح ہوتے ہی میں شال کے لیے نکلا کیونکہ دوست نے مجھے بلایا تھا۔ اب میرے سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں، لیکن وہ جو بھی کہہ رہا تھا بس میں ہاں کر رہا تھا۔ اور ایک دن میں شال میں رہا اور صبح ہوتے ہی دوست سے رابطہ کیا اور اس نے مجھے کسی جگہ پر بلایا۔ جب میں وہاں پہنچا تو کسی نے آ کر کہا کہ سنگت آپ ہو؟ تو میں نے ہاں کہا اور اس نے مجھے اپنے ساتھ لے گیا اور شام کے وقت ہم اس کے گھر پہنچ گئے اور چائے پی، کھانا کھایا اور جب مغرب ہوا تو اس نے مجھ سے کہا چلو چلتے ہیں اور ہم چل پڑے۔ لیکن میں ڈر بھی رہا تھا کہ کیا کروں، اگر مجھے فوج نے پکڑا یا کچھ اور ہوا تو کیا کروں؟ لیکن توکل کیا اور دوست کے ساتھ چل پڑا۔
کچھ وقت کے بعد کسی اور دوست کے پاس پہنچے اور پہلے والے دوست نے کہا کہ اب تم اس کے ساتھ جاؤ اور میں کچھ دن بعد آؤں گا، پھر ملیں گے۔ میں نے اس دوست کو الوداع کہا اور دوسرے دوست کے ساتھ اپنا سفر شروع کیا اور چلتے رہے۔ تو راستے میں ایک اور دوست بھی اٹھایا اور سفر جاری رہا۔ جب کچھ گھنٹے سفر کرنے کے بعد ہمیں جہاں پہنچنا تھا وہیں پہنچ گئے اور دوستوں کا انتظار کر رہے تھے۔ اب یہ میرا پہلا دن تھا جب بلوچ سرمچاروں سے مل رہا تھا؛ بہت زیادہ خوشی بھی تھی اور ڈر بھی۔
ہم انتظار کرتے ہیں۔ سردیوں کی رات تھی، ٹھنڈ بہت تھی، بھوک بھی لگ گئی تھی، لیکن نہ اوڑھنے کے لیے کمبل اور نہ کھانے کے لیے روٹی تھی، بس انتظار کہ سنگت کب آئیں گے۔ آخر کار ایک گھنٹے بعد سنگت آ گئے اور انہوں نے سلام کیا اور جب میں نے ان سے سلام دعا کی تو مجھے ایسا لگا کہ آج میں بلوچ قوم کے پیغمبروں سے مل رہا ہوں۔ خیر، پھر بیٹھے، حال احوال کیا، پھر کچھ دیر بعد شہری سنگت نے براہوئی میں کہا: (پھل، دا پوسکن ءُ سنگت ئسے) یعنی پُھل، یہ نیا ساتھی ہے۔
کچھ دیر بعد ہم نے شہری سنگتوں کو رخصت کیا اور ہم تین گدھوں کے ساتھ آگے نکلے اور چلتے رہے۔ مزید تین/چار گھنٹوں تک چلنے کے بعد ایک سنگت نے آواز دی کہ کوہی پھل، آپ خوش قسمت ہو، آپ بولان پہنچ گئے ہو۔ تو وہ رات میرے لیے کسی جنت سے کم نہیں تھی۔ بولان کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان ٹھنڈی ہوا اور اونچے اونچے پہاڑ، کندھے پر ایک بوتل، جھاٹا، بندق اور چاند کی چودھویں رات، تو مجھے ایسا لگا کہ میں جنت کے کسی کونے میں چل رہا ہوں۔ بولان خود ایک خوبصورت جگہ ہے اور جب کوئی نیا بلوچ سرمچار بولان کی طرف بڑھتا ہے تو بولان اسے بھی خوبصورتی عطا کرتا ہے۔
اور بولان میں ایسا لگتا ہے کہ انسان دنیا کی غموں سے نکل کر ایک ایسی جگہ پر پہنچا ہے جہاں کوئی اس سے سوال پوچھنے والا نہیں۔ اور ہم سفر کرتے رہے، تو راستے میں میں بہت تھک گیا۔ رات کے تین بج رہے تھے اور ہم ایک ندی کے پاس پہنچ گئے جو کہ اونچے اونچے پہاڑوں کے درمیان موجود تھی اور ہم نے اسی رات وہاں پر ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ اور دوست نے کہا کہ کوہی سنگت، گدھوں کو کھولتے ہیں پھر سوتے ہیں۔ کچھ دیر بعد سونے کی تیاریاں ہوئیں اور میں بہت تھکا ہوا تھا، بس یہی ایک سوال ذہن میں سوار تھا کہ کب دن ہو جائے گا اور میں بولان کا نظارہ کروں گا۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا، میں سو گیا۔
صبح کے چھ بجے میرے کانوں میں ایک آواز گونجی: کوہی پھل اٹھ جاؤ، آگے چلتے ہیں۔ میں جلدی جلدی اٹھ گیا، ساتھیوں نے چائے تیار کی تھی، سب نے چائے اور خشک روٹی کیساتھ ناشتہ کیا اور کچھ دیر بعد اپنا سفر شروع کیا۔ دو گھنٹے سفر کرنے کے بعد بولان کے اونچی پہاڑوں پر پہنچے اور مجھے جنت یاد آ گئی؛ بادل نیچے اور ہم اوپر، ٹھنڈی ہوا اور سرمچاروں کی گونجتی ہوئی آواز اور بولان کی پکار کہ آجاؤ میری خاطر لڑو۔ اور بہنوں کی چیخیں اور ماؤں کی درد بھری داستان اور بھائیوں کی درد بھری زندگی، جو کئی سال ان پہاڑوں پر رہ کر اپنی گلزمین کی خاطر لڑتے ہیں، ان سب نے مجھے بے بس کر دیا۔
اور پھر اسی دن کے بعد میں نے اسی زمین کی خاطر قربان ہونے کا فیصلہ کیا اور بولان کو سلام کر رہا تھا اور کئی دیر تک اس کے پتھروں کو چومتا رہا۔
تو آخر میں ایک شعر ہے جو اکثر آپ سنا کرتے ہیں:
بولان ءِ تئو نامہ مگر بولان بلوچی دپترے
بولان تئو نامہ مگر بولان بلوچی دپترے
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































