بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6388ویں روز بھی جاری رہا، جہاں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور جبری گمشدگیوں و ماورائے عدالت اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی کیمپ میں وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ تنظیم کی طویل، پُرامن اور آئینی جدوجہد کا مقصد جبری گمشدگیوں اور ماورائے آئین اقدامات کا خاتمہ اور تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں جیسے سنگین انسانی مسئلے کے حل کے لیے آئین اور ملکی قوانین کے تحت فوری عملی اقدامات کیے جائیں اور تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری احتجاج کے دوران لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ لاپتہ افراد کی حالت اور مقام کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے۔
دوسری جانب ضلع نوشکی کے علاقے کلی بٹو سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ وکیل مرتضیٰ جمالدینی ولد درا خان کی جبری گمشدگی کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ موصولہ معلومات کے مطابق، انہیں 9 اکتوبر 2026 کو صبح تقریباً 9:30 بجے ان کے گھر سے پاکستانی فورسز (ایف سی) نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔


















































