محمد اقبال کو 9 ماہ اور 14 دن جبری طور پر لاپتہ رکھنے کے بعد جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ بی وائی سی

10

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق محمد اقبال ولد نواب خان سکنہ بارکھان کو 26 دسمبر 2025 کو دوپہر تقریباً 12 بجے رکھنی، بارکھان میں سیشن کورٹ کے سامنے سے ایم آئی اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

جبری گمشدگی کے 9 ماہ اور 14 دن بعد، 10 اکتوبر 2026 کو ان کی لاش بارکھان میں پھینک دی گئی۔ اہلِ خانہ اور مقامی ذرائع کے مطابق، انہیں ایک جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا۔

بی وائی سی بیان میں کہا گیا ہے کہ محمد اقبال کے اہلِ خانہ ان کی واپسی کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ انہیں امید تھی کہ ایک دن ان کا گھر محمد اقبال کی واپسی سے پھر روشن ہوگا، لیکن آج ان کی امیدوں کے گھر کو ماتم کدے میں بدل دیا گیا۔ اپنے پیارے کو زندہ دیکھنے کی آرزو رکھنے والے خاندان کو اس کی لاش تھما دی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ بلوچستان میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتِ حال پر قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو فوری نوٹس لینا چاہیے اور ان خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔ جبری گمشدگیوں کے بعد مبینہ جعلی مقابلوں میں قتل اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے مسلسل سامنے آنے والے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں، جن کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔

مزید کہا ہے کہ عالمی برادری مزید خاموشی اختیار نہ کرے۔ بلوچستان کے خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔ ان واقعات میں ملوث ذمہ داران کا تعین کیا جائے، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ محمد اقبال کے خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔