کامران خان سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ وی بی ایم پی

5

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6386ویں روز بھی جاری

کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ 6386ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر بی بی شاہینہ نے کیمپ میں شرکت کی اور اپنے بیٹے کامران خان ولد عزیزاللہ کے کوائف تنظیم کے پاس جمع کرائے۔

انہوں نے بتایا کہ یکم اپریل 2026 کو کلی کشمیر آباد، قمبرانی روڈ، کوئٹہ میں ان کے بیٹے کو اہلِ خانہ کے سامنے حراست میں لیا گیا تھا اور یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ تفتیش کے بعد تین دن کے اندر انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم، چھ ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو انہیں رہا کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی بازیابی یقینی بنائی جائے تاکہ ان کے خاندان کو اس اذیت سے نجات مل سکے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے یقین دہانی کرائی کہ کامران خان کا کیس کمیشن آف انکوائری برائے جبری گمشدگیاں اور حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کامران خان کی بحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔

وی بی ایم پی نے کامران خان سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔