بلوچستان کے صنعتی شہر حب سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے جنید حمید اور ان کے بھائی یاسر حمید کی جبری گمشدگی کو دو سال مکمل ہوگئے، تاہم دونوں بھائی تاحال بازیاب نہیں ہوسکے۔
لواحقین کے مطابق 8 اکتوبر 2024 کی رات تقریباً دس بجے حب بھوانی شاہ پمپ کے قریب سے 28 سالہ جنید حمید ولد عبدالحمید کو تین گاڑیوں میں سوار تقریباً ایک درجن مسلح افراد نے بندوق کے زور پر اغوا کرکے اپنے ہمراہ لے گئے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ جنید حمید حب میں واقع کمپنی OTsuka Pakistan Limited میں ملازم تھے اور اہلِ علاقہ کے مطابق وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے۔
جنید حمید کے بھائی یاسر حمید کو بھی 11 اکتوبر 2024 کی رات قلات میں اس وقت جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جب وہ ایک رشتہ دار کے گھر میں رہائش پذیر تھے۔ لواحقین کے مطابق یاسر حمید اس سے قبل بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بن چکے ہیں۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کی جبری گمشدگی کو دو سال مکمل ہوچکے ہیں، لیکن تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی وہ بازیاب ہوسکے ہیں۔
لواحقین نے ایک مرتبہ پھر حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جنید حمید اور یاسر حمید کو فوری طور پر بازیاب کرکے اہلِ خانہ کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے انسانی حقوق کے مقامی، ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ دونوں بھائیوں کی جبری گمشدگی کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی بازیابی کے لیے کردار ادا کریں۔


















































