ڈاکٹر حکیم لہڑی: ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا ۔ ٹی بی پی اداریہ

22

ڈاکٹر حکیم لہڑی: ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا ۔ ٹی بی پی اداریہ

معروف بلوچ قوم پرست رہنما ڈاکٹر حکیم لہڑی 7 اکتوبر کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات محض ایک سیاسی رہنما کی جدائی نہیں، بلکہ بلوچ قوم پرستی کی سیاست کے ایک ایسے عہد کا اختتام ہے جس کی بنیاد نظریاتی وابستگی، سیاسی استقامت، قومی حقوق کی جدوجہد اور مشکل ترین حالات میں اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہنے کے جذبے پر استوار تھی۔ ڈاکٹر حکیم لہڑی ان سیاسی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنی جوانی سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک بلوچ قوم پرستی کی سیاست سے وابستگی برقرار رکھی اور اپنی پوری زندگی بلوچ قومی حقوق کی جدوجہد کے نام کر دی۔

ڈاکٹر حکیم لہڑی کا شمار بلوچ قوم پرست سیاست کی اس نسل میں ہوتا تھا جس نے سیاست کو محض اقتدار کے حصول یا وقتی سیاسی مفادات کا ذریعہ نہیں سمجھا، بلکہ اسے قومی شناخت، سیاسی شعور، اجتماعی حقوق اور قوم کی مستقبل کی جدوجہد سے وابستہ رکھا۔ ان کے لیے بلوچ سیاست ایک وقتی سرگرمی نہیں، بلکہ زندگی بھر کا عہد تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سیاسی حالات میں تبدیلیاں آئیں، تحریک کو مختلف ادوار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، سیاسی قوتوں کو عروج و زوال سے گزرنا پڑا اور جدوجہد کے راستے میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی ہوئیں، لیکن ڈاکٹر حکیم لہڑی اپنی سیاسی وابستگی سے دستبردار نہیں ہوئے۔

وہ اس نسل کے نمائندہ سیاسی کارکن اور رہنما تھے جس نے بلوچ قوم پرستی کی سیاست کو مختلف تاریخی مراحل سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے ریاستی جبر، فوجی آپریشنوں، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، قید و بند کی صعوبتوں، جبری گمشدگیوں اور سیاسی شخصیات کے قتل جیسے تلخ حالات کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو سیاسی جدوجہد کی پاداش میں مشکلات سے دوچار ہوتے دیکھا، اپنے ہم عصر سیاست دانوں کو مختلف آزمائشوں سے گزرتے دیکھا اور اس تمام عرصے میں بلوچ سیاست کے اندر پیدا ہونے والے اتار چڑھاؤ کو قریب سے محسوس کیا۔ یہ واقعات محض ان کی یادداشت کا حصہ نہیں تھے، بلکہ اس سیاسی تاریخ کے زندہ تجربات تھے جن سے ان کی نسل گزری اور جنہوں نے بلوچ قوم پرستی کی سیاست کی سمت، مزاج اور کردار پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

ان کی شخصیت کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں تھی کہ وہ بلوچ قوم پرست سیاست کے ایک معروف نام تھے، بلکہ اس میں بھی تھی کہ وہ ایک طویل سیاسی عہد کے گواہ تھے۔ ان کے پاس اس سیاست کی یادیں، تجربات اور مشاہدات موجود تھے جس نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ ایسے لوگ کسی بھی سیاسی تحریک کے لیے تاریخی حافظے کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کی زندگی میں تحریک کے مختلف ادوار، اس کی کامیابیاں، اس کی ناکامیاں، اس کے اختلافات اور اس کی قربانیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ جب ایسی شخصیات دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو صرف ایک فرد کی کمی پیدا نہیں ہوتی، بلکہ تحریک اپنے ایک ایسے گواہ سے بھی محروم ہو جاتی ہے جس نے اس کی تاریخ کو قریب سے دیکھا اور اس کے مختلف مراحل میں اپنا کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر حکیم لہڑی اب ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی زندگی اور سیاسی وابستگی بلوچ قوم پرستی کی تاریخ کا حصہ رہیں گی۔ ان کا نام اس نسل کے حوالے سے یاد کیا جائے گا جس نے مشکل حالات میں بھی اپنی سیاسی شناخت برقرار رکھی اور قومی حقوق کی جدوجہد سے دستبردار ہونے کے بجائے آخری وقت تک اس سے وابستہ رہی۔ ان کی وفات ایک عہد کا اختتام ہے، مگر ان کے عہد کی سیاسی یادداشت اور تاریخی اہمیت آنے والے وقت میں بھی بلوچ سیاست کے مطالعے کا حصہ رہے گی۔