فکرِ سکندری — سکندر سے گہرام تک – سازین بلوچ

34

فکرِ سکندری — سکندر سے گہرام تک

تحریر: سازین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گواھرو

لکھنے کے لیے انسان کے پاس اس کردار کے الفاظ ہونے چاہئیں، لیکن کیا یہ الفاظ تمہارے کردار کو بیان کرنے کے لیے کافی ہیں؟

میں جب بھی لکھنے کی کوشش کرتی ہوں تو مجھے ہارون بلوچ کی یہ بات یاد آتی ہے: “کردار تو بہت ہیں بلوچ قوم میں، لیکن بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ ہم ان کو بیان نہیں کر سکتے۔”

لیکن میں سوچتی ہوں کہ کیا میں ان کرداروں کو اس طرح بیان کر سکوں گی؟ ان کی قربانی، ہمت، فکر اور شعور، جو ان کے خیرِ موجود نہ ہونے کے باوجود بھی ایک چراغ کی روشنی کی طرح پھیل رہا ہے۔ کیا میں ان کرداروں کو بیان کر سکوں گی؟ کیا مجھ میں لکھنے کی ہمت ہوگی؟ کیا میرے الفاظ ان کرداروں کے ساتھ انصاف کر سکیں گے؟

میں اپنی کم علمی کے ساتھ لکھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ یقیناً تمہاری قربانی ایک تحریر میں بیان نہیں ہو سکتی، کیونکہ کچھ کردار الفاظ سے کہیں بڑے ہوتے ہیں۔

نوشکی کی سرزمین پر ایک دلیر، جس نے ہمت، صبر اور مزاحمت کے ساتھ ایک ایسی داستان رقم کی ہے جو آج بھی زندان کی تاریکی میں قید ہونے کے باوجود بلوچ قوم کے بچوں تک پہنچ رہی ہے۔

سکندر صرف ایک نام نہیں، بلکہ زندان کے اس تاریک اندھیرے میں جلتا ہوا ایک روشن چراغ ہے۔

کلی بادینی، نوشکی میں پیدا ہونے والے اس بچے کو کیا معلوم تھا کہ ایک دن قوم اور سرزمین کا درد اسے دشمن کے مدِمقابل لا کھڑا کرے گا اور وہ زندان کی تاریکی تک پہنچ جائے گا۔ مگر اس کے دل میں آزادی کا جو یقین تھا، وہ آج بھی اس تاریک رات میں اسے مایوس ہونے نہیں دیتا۔

وہ آج بھی اپنے پختہ فکر کے ساتھ دشمن کی قید میں بھی مقابلہ کر رہا ہے۔ وہ روشنی جو زندان سے نکل کر ہم تک پہنچ رہی ہے، یقیناً اس بات کا جواب ہے کہ گواھرو آج بھی اپنی دلیری کے ساتھ کھڑا ہے۔

گواھرو! تمہاری دلیری کی داستان بلوچ کی ہر نسل سنے گی۔ جیسے ہم نے سنی ہیں، کبھی مرید کی شاعری میں، کبھی استاد میر احمد کے گیت میں، اور کبھی برزکوہی کے قلم سے۔ ہم ہمیشہ تمہاری داستان سنتے جائیں گے۔

برزکوہی لکھتے ہیں:

“جب ایک دن گواھرو کی نگاہیں ایک خون آلود ندی پر جا ٹکیں، جہاں اس کے اپنے ہم نسل، اپنی مٹی کی خوشبو میں لت پت، بے گور و کفن پڑے تھے۔ اُس دن سورج کچھ اور ڈھلا، اور گواھرو نے اپنے ہی بیج کو کاٹنے والے ہاتھوں سے توبہ کی۔ یوں وہ ایک خاموش الوداع کے ساتھ لشکر چھوڑ گیا۔”

اور اسی دن وہ سکندر، جو ایک دوسری فوج کا سالار تھا اور جسے اپنی ہی نسل کو مٹانے کے لیے بھیجا گیا تھا، اس نے اپنی سمت بدلنے کا فیصلہ کیا۔

انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ دلیر ایک دن اپنا رخ ہی بدل دے گا اور اپنی سرزمین کے لیے گواھرو کی شکل اختیار کرے گا۔

جس سوچ کے ساتھ وہ کل تک آنکھ کھولتا تھا، وہ سوچ خود تم نے اس کے ذہن میں ڈالی تھی۔ مگر آج وہی سوچ ایک دوسری سمت کا رخ اختیار کر چکی ہے اور تمہاری ہی سوچ کو چیلنج کرنے کے لیے کھڑی ہے۔

اب سکندر کے ساتھ ایک اور نام نے جنم لیا ہے گہرام سکندر۔

گہرام سکندر، جو اب اسی فکر کے خلاف کھڑا ہے جس نے اس کی اپنی سرزمین کو قید کیا تھا۔

اب ایک اور فکر زندہ ہو گئی ہے—فکرِ سکندری—جو اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور اب ایک نیا رنگ اختیار کر چکی ہے؛ آزادی کا رنگ۔

مگر وقت نے بہت ہی بے گمان رخ اختیار کر لیا۔

ابھی تو اس سرزمین کے بچوں کو تم سے جنگ کے قصے سننے تھے۔ ابھی تو ان دلیروں کو تمہارے ساتھ وتاخ میں وقت گزارنا تھا۔ ابھی تو مرید کا زہیری ختم نہیں ہوا تھا۔ ابھی تو تمہیں جنگ کے میدان میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دیکھنا تھا۔

مگر قسمت نے تمہیں زندان کی تاریکی تک پہنچا دیا۔

تم فقط جسمانی طور پر ہمارے ساتھ نہیں ہو، مگر تمہاری مزاحمت، تمہاری فکر، تمہاری سوچ اور تمہارا شعور ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔

ہم یہ بات ہر اس داستان میں لکھیں گے کہ گواھرو جیسا جہدکار، جس نے غلامی کی وردی اتار کر آزادی کا کفن پہن لیا اور اس سرزمین کے لیے خود کو قربان کر دیا، وہ آج بھی اپنے فکر کے ساتھ زندہ ہے۔

وہ زندگی جو وہ بلوچستان کے پہاڑوں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گزارنا چاہتا تھا، آج ایک تاریک کمرے میں گزر رہی ہے، مگر اسی تاریکی سے وہ اپنی مزاحمت کا پیغام دے رہا ہے۔

گواھرو آج بھی اپنے پختہ فکر کے ساتھ کھڑا ہے۔

گواھرو ایک ایسے اندھیرے میں چھپا ہے جہاں دن اور رات میں فرق معلوم نہیں ہوتا، مگر گواھرو کو یہ ضرور معلوم ہے کہ اس کا فکر اس کی سرزمین میں پھیل چکا ہے۔

اور ہم اس کی زندگی اور قربانی کو ایک داستان میں قلم بند کر رہے ہیں۔

تم زندہ ہو ہر اس دل میں جو اس سرزمین کی بقا کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ تم زندہ ہو ہر اس دل میں جو آج تمہاری طرح اندھیرے میں قید ہے۔ تم زندہ ہو ہر بلوچ کے دل میں۔

گواھرو! تمہارا انتظار ہے—

چلتن کی بلندی کو،
جنگ کے سپاہی کو،
بولان کی زیبائی کو،
استاد کے گیت کو،
مرید کی شاعری کو،
لکھنے والے کے قلم کو،
نوشکی کے شہیدوں کو،
شہید حق نواز کی قبر کو،
کلی بادینی کی گلیوں کو،
خیصار کی جَل کو،
تمہارے توفک کو،
وتاخ کے سنگت کو،
حمل کے گوادر کو،
شال کی شوخی کو،
اور ہر اس بلوچ کو جو تمہارا منتظر ہے۔

گواھرو کا فکر زندہ ہے۔

وہ درسِ جنگ ہنا تس مڷاتے سنگری آ
خیرات کیو اوڑکن چترتے کافری آ
دیچائے انت سوچِک ناپاک ہنا دری آ
تسک وہ خرسی ئس سوچاتے کلری آ
تینے خنیوا پختہ سوچو اے رہبری آ
دسکا گروشک ایتک اے چہرہ جل پری آ
توریکا ننکے گہارو حالت تے خاخری آ
دپیرے اُستان ہچبر فکرے سکندری آ


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔