بس ایک خواہش: کتابیں زندہ رہیں
تحریر: ملک عیسیٰ خان رند
دی بلوچستان پوسٹ
وصیت سمجھیں، خواہش کہیں یا پھر کتاب سے عشق کا جنون کہ میں رہوں یا نہ رہوں، مگر کتابوں سے محبت کا کارواں یونہی چلتا رہے۔ دنیا میں ہر چیز فانی ہے۔ انسان اس دنیا میں آتا ہے، اپنے حصے کی زندگی جیتا ہے، اپنے حصے کی خوشیاں، دکھ، کامیابیاں اور ناکامیاں سمیٹتا ہے اور پھر ایک دن خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ مگر انسان کی اصل زندگی صرف اس کے سانسوں تک محدود نہیں ہوتی۔
کچھ لوگ اس فانی دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اپنی سوچ، اپنے الفاظ اور اپنے کردار سے زندہ رہتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ان کتابوں میں زندہ ہوتے ہیں جنہیں انہوں نے پڑھا، لکھا، محفوظ کیا اور دوسروں تک پہنچایا۔ میری بھی ایک خواہش ہے، ایک خواب ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے کتاب دوست بھائیوں کا یہ قافلہ چلتا رہے اور کتابوں سے محبت کا یہ سفر یونہی جاری رہے۔
کتابوں سے محبت کا یہ کارواں کسی ایک شخص کا نہیں، یہ علم کا کارواں ہے۔ یہ شعور کا سفر ہے۔ یہ ان لوگوں کا قافلہ ہے جو اندھیروں میں چراغ تلاش کرتے ہیں، جو سوال پوچھنے سے نہیں ڈرتے، جو سچ کو جاننے کی جستجو رکھتے ہیں اور جو سمجھتے ہیں کہ کتاب صرف کاغذ کے چند صفحات کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی فکری زندگی کا آئینہ ہے۔
کتاب انسان کی سب سے خاموش مگر وفادار دوست ہے۔ دنیا میں بہت سے رشتے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ دوست بچھڑ جاتے ہیں، لوگ دور ہو جاتے ہیں اور حالات انسان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، مگر کتاب ایک ایسی دوست ہے جو خاموش رہ کر بھی انسان سے بات کرتی رہتی ہے۔
جب انسان تنہا ہوتا ہے تو کتاب اس کی ہم سفر بن جاتی ہے۔ جب انسان پریشان ہوتا ہے تو کتاب اسے سوچنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ جب انسان لاعلم ہوتا ہے تو کتاب اس کے سامنے علم کے دروازے کھولتی ہے۔ اور جب انسان سوالوں میں گھرا ہوتا ہے تو کتاب اسے نئے سوالات کے ساتھ ساتھ جواب تلاش کرنے کا راستہ بھی دکھاتی ہے۔
کتاب انسان کو صرف پڑھنا نہیں سکھاتی، بلکہ سوچنا بھی سکھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب سے محبت دراصل علم سے محبت ہے، اور علم سے محبت دراصل انسان سے محبت ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ زندگی عارضی ہے۔ آج ہم موجود ہیں، کل شاید نہ ہوں۔ ہماری آواز خاموش ہو سکتی ہے، ہمارے قدم رک سکتے ہیں اور ہماری آنکھیں بند ہو سکتی ہیں، لیکن اگر ہم نے کسی ایک انسان کو کتاب سے جوڑ دیا، کسی ایک بچے کے ہاتھ میں کتاب تھما دی یا کسی ایک نوجوان کو مطالعے کی عادت ڈال دی، تو شاید ہماری زندگی کا مقصد ہمارے بعد بھی زندہ رہے۔
مجھے اپنی ذات کے ہمیشہ رہنے کی خواہش نہیں۔ خواہش صرف اتنی ہے کہ کتابیں زندہ رہیں۔ میرا نام بھلا دیا جائے تو کوئی بات نہیں، مگر کتابوں کے صفحات پر لکھی ہوئی روشنی بجھنی نہیں چاہیے۔ میری آواز خاموش ہو جائے تو کوئی بات نہیں، مگر لائبریریوں میں کتابوں کے ورق پلٹنے کی آواز جاری رہنی چاہیے۔
میں اس دنیا میں نہ رہوں تو کوئی بات نہیں، مگر کسی گاؤں کے چھوٹے سے کمرے میں ایک بچہ کتاب پڑھ رہا ہو؛ کسی طالب علم کی میز پر کتاب کھلی ہو؛ کسی نوجوان کے ہاتھ میں قلم ہو؛ کسی استاد کی الماری میں کتابیں محفوظ ہوں؛ اور کسی ماں کی زبان سے اپنے بچے کے لیے یہ جملہ نکل رہا ہو:
’’بیٹا! کتاب پڑھو۔‘‘
تب مجھے محسوس ہوگا کہ میں کہیں نہ کہیں اب بھی موجود ہوں۔
آج کا زمانہ ترقی یافتہ اور تیز رفتار ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا پر مختصر معلوماتی ویڈیوز، یوٹیوب پر دستیاب تعلیمی لیکچرز، اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی نے ہماری زندگی کے انداز بدل دیے ہیں۔ چند سیکنڈ میں دنیا بھر کی معلومات ہمارے ہاتھ میں آ جاتی ہیں۔
ٹیکنالوجی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن معلومات اور علم میں فرق ہے۔ معلومات ہمیں بہت کچھ بتاتی ہے، مگر کتاب ہمیں بہت کچھ سمجھاتی ہے۔ معلومات تیزی سے آتی اور چلی جاتی ہے، مگر مطالعہ انسان کے اندر ٹھہرتا ہے۔
سوشل میڈیا ہماری توجہ چند لمحوں کے لیے حاصل کرتا ہے، مگر اچھی کتاب کئی برس تک ہمارے ذہن کے اندر زندہ رہ سکتی ہے۔ اسی لیے آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے کہ کتابوں کا کارواں رکے نہیں۔
کبھی بازاروں میں کتابوں کی دکانیں علم کے چھوٹے چھوٹے مراکز ہوا کرتی تھیں۔ طالب علم کتابوں کی تلاش میں دکانوں پر جاتے، لوگ رسائل خریدتے اور اگر کسی ہوٹل پر چائے پینے جاتے تو چائے سے پہلے ہوٹل والے سے اخبار مانگتے۔ چائے کے ساتھ ساتھ اخبار پڑھتے اور دنیا بھر کی خبروں اور حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے۔
موبائل کے آنے سے پہلے چائے کے ہوٹلوں پر اخبارات کا باقاعدہ ٹھیکہ ہوتا تھا۔ ہر شہر کے پانچ چھ بڑے اخبارات ہوٹلوں میں چائے اور ناشتے کی طرح میز کی زینت ہوتے تھے۔ اسی طرح چائے کے ٹیبل پر سیاسی کارکن، طلبہ اور پڑھا لکھا طبقہ معلومات سے مستفید ہوتے تھے۔
لائبریریوں اور کتابوں کی دکانوں میں نئی کتابوں کے متلاشی افراد آتے، نئی کتابیں خریدتے اور آپس میں نئی کتابوں کے بارے میں گفتگو کرتے تھے۔
آج کئی جگہوں پر منظر بدل گیا ہے۔ کتابوں کی دکانیں کم ہو رہی ہیں، قارئین کی تعداد گھٹ رہی ہے اور بہت سے لوگ کتاب خریدنے کے بجائے موبائل کی اسکرین پر وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
بلوچستان جیسے خطے میں، جہاں کتاب اور علم کی ضرورت اور بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے، وہاں کتابوں کے مراکز کا ویران ہونا ایک سنجیدہ فکری مسئلہ ہے۔
ایک بند کتابوں کی دکان صرف ایک کاروبار کا بند ہونا نہیں، بلکہ یہ معاشرے میں ایک چراغ کا بجھ جانا بھی ہوتا ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر کتابیں ہماری الماریوں، دکانوں، اسکولوں اور گھروں سے نکل گئیں تو ہماری آنے والی نسلیں کس فکری دنیا میں پروان چڑھیں گی؟
اگر دیکھا جائے تو لاہور کے معروف پبلشر بک ہاؤس کے مالک کے بقول، بلوچستان کے لوگ علم اور کتاب سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔
بلوچستان کی سرزمین نے ہمیشہ شاعروں، ادیبوں، دانش وروں، سیاسی کارکنوں، محققین اور اہلِ علم کو جنم دیا ہے۔ قومیں علم، تعلیم، تحقیق اور شعور سے ترقی کرتی ہیں۔
اگر بلوچستان کے ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر بڑے گاؤں میں ایک اچھی لائبریری ہو؛ اگر نوجوانوں کے لیے کتابیں آسانی سے دستیاب ہوں؛ اگر تعلیمی اداروں میں مطالعے کی عادت پیدا کی جائے؛ اگر مقامی زبانوں، تاریخ، ادب اور ثقافت پر کتابیں شائع ہوں اور نئی نسل تک پہنچیں، تو یہ ایک خاموش مگر بہت بڑی فکری تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔
ہمیں ایسے بلوچستان کی ضرورت ہے جہاں کتاب صرف نصاب کا حصہ نہ ہو، بلکہ زندگی کا حصہ ہو۔
کتاب کاغذ پر چھپے ہوئے الفاظ کا مجموعہ نہیں۔ کتاب کسی مفکر کی عمر بھر کی سوچ ہے۔ کسی شاعر کا درد ہے۔ کسی مورخ کی گواہی ہے۔ کسی مسافر کی داستان ہے۔ کسی فلسفی کا سوال ہے۔ کسی مظلوم کی آواز ہے۔ کسی ماں کی امید ہے اور کبھی کبھی کتاب آنے والی نسلوں کے نام ایک ایسا خط ہوتی ہے جس کا جواب لکھنے والا ابھی پیدا بھی نہیں ہوا ہوتا۔
جب ہم کتاب پڑھتے ہیں تو دراصل ہم کسی دوسرے انسان کے تجربے سے اپنی زندگی روشن کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک نسل چلی جاتی ہے، دوسری آتی ہے۔ اگر پہلی نسل اپنی یادیں، تجربات، خیالات اور علم کتابوں میں محفوظ کر جائے تو آنے والی نسلیں صفر سے آغاز نہیں کرتیں۔
وہ اپنے بزرگوں کے تجربے سے آگے بڑھتی ہیں۔ یہی کتاب کا سب سے بڑا کمال ہے۔
ایک استاد اپنی ایک کلاس کے چند درجن طلبہ کو تعلیم دے سکتا ہے، لیکن اس کی لکھی ہوئی کتاب ہزاروں اور لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔
ایک شخص اپنی زندگی میں چند سو لوگوں سے مل سکتا ہے، لیکن اس کی کتاب کئی نسلوں سے ملاقات کر سکتی ہے۔
اسی لیے کتاب انسان کی زندگی کو اس کی عمر سے کہیں زیادہ طویل بنا دیتی ہے۔
کتابوں سے محبت صرف یہ نہیں کہ ہم خود کتابیں پڑھیں۔ کتابوں سے محبت کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کو پڑھنے کی طرف لے جائیں۔
اپنے بچوں کو کتاب تحفے میں دیں۔ دوست کی سالگرہ پر کتاب دیں۔ اسکول کے بچوں کے لیے کتابیں جمع کریں۔ اپنے علاقے میں مطالعے کی نشستیں شروع کریں۔ مقامی ادیبوں کی کتابیں خریدیں۔ کتاب لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کتاب کو ایک ضرورت سمجھیں، صرف شوق نہیں۔
کیونکہ جس معاشرے میں کتابیں پڑھنے والے کم ہو جائیں، وہاں افواہیں، تعصبات اور سطحی سوچ زیادہ آسانی سے جگہ بنا لیتی ہیں۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ایک کتاب آخر کیا کر سکتی ہے؟ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ خیالات نے دنیا بدلی ہے، اور خیالات اکثر کتابوں کے ذریعے نسلوں تک پہنچے ہیں۔
ممکن ہے ایک کتاب کسی مایوس نوجوان کو امید دے دے۔ ممکن ہے کوئی کتاب کسی طالب علم کو اپنے مستقبل کا راستہ دکھا دے۔ ممکن ہے کوئی کتاب کسی انسان کو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ دے۔ ممکن ہے کوئی کتاب کسی شخص کو اپنے معاشرے کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دے اور ممکن ہے کسی کتاب کا ایک صفحہ کسی انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دے۔ اسی لیے کتاب کو معمولی چیز سمجھنا دراصل انسانی فکر کی طاقت کو معمولی سمجھنا ہے۔
اگر کبھی میں نہ رہوں تو میری خواہش یہ نہیں کہ بڑے بڑے یادگاری مجسمے بنائے جائیں۔
میں چاہتا ہوں کہ کسی لائبریری کی ایک شیلف پر کتابیں موجود ہوں؛ کسی نوجوان کے ہاتھ میں کتاب ہو؛ کسی بچے کی آنکھوں میں پڑھنے کی چمک ہو؛ کسی استاد کے پاس طلبہ کے لیے کتابوں کا ذخیرہ ہو؛ کسی ویران علاقے میں علم کا چراغ روشن ہو؛ اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے کہہ رہا ہو:
’’یہ کتاب ضرور پڑھنا، شاید تمہاری زندگی بدل جائے۔‘‘
اگر ایسا ہوتا رہا تو یہی میرے لیے سب سے بڑی یادگار ہوگی۔
آپ ایک بچے کو کتاب دیں تو شاید آپ نے صرف ایک کتاب نہیں دی؛ آپ نے ایک مستقبل کو روشنی دی ہے۔
آپ کسی نوجوان کو مطالعے کی عادت ڈال دیں تو شاید آپ نے صرف ایک عادت نہیں دی؛ آپ نے ایک سوچنے والا انسان پیدا کیا ہے۔
اور اگر ایک نسل کتابوں سے محبت کرتی ہے تو وہ آنے والی نسل کے لیے فکری راستہ چھوڑ جاتی ہے۔
ہر انسان دنیا سے جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ چھوڑ جاتا ہے۔
کوئی دولت چھوڑتا ہے، کوئی مکان، کوئی کاروبار اور کوئی زمین چھوڑتا ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسا ورثہ چھوڑ جاتے ہیں جسے وقت بھی ختم نہیں کر پاتا۔
وہ علم کا ورثہ چھوڑتے ہیں۔ وہ کتابیں چھوڑتے ہیں۔ وہ خیالات چھوڑتے ہیں۔ وہ سوال چھوڑتے ہیں۔ وہ شعور چھوڑتے ہیں۔ ایسا ورثہ کسی خزانے سے کم نہیں۔
زندگی مختصر ہے، مگر کتاب کا سفر طویل ہے۔ انسان فانی ہے، مگر خیال زندہ رہ سکتا ہے۔ آواز خاموش ہو سکتی ہے، مگر لفظ صدیوں تک بول سکتے ہیں۔ قدم رک سکتے ہیں، مگر کتابوں کا کارواں چلتا رہ سکتا ہے۔
اسی لیے میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے:
میں رہوں یا نہ رہوں، مگر کتابوں سے محبت کا کارواں یونہی چلتا رہے۔
میرے بعد کوئی بچہ کتاب کھولے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہو۔ کوئی نوجوان کتاب پڑھے تو اس کے اندر سوال پیدا ہو۔ کوئی طالب علم کتاب سے اپنا مستقبل تلاش کرے۔ کوئی استاد کتاب کو اپنا ساتھی بنائے۔ کوئی والدین اپنے بچوں کو موبائل کے ساتھ کتاب بھی دیں۔
اور کسی دن بلوچستان کی کسی بستی میں، کسی چھوٹے سے کمرے میں، ایک چراغ کے نیچے کوئی بچہ کتاب پڑھ رہا ہو۔
تب شاید مجھے یہ یقین ہو جائے کہ انسان چلا جاتا ہے، مگر محبت کے کارواں نہیں رکتے۔
میں رہوں یا نہ رہوں،
میری آواز رہے یا نہ رہے،
میرا نام یاد رہے یا نہ رہے،
مگر کتاب زندہ رہے۔
کتابوں کے ورق پلٹتے رہیں،
علم کے چراغ جلتے رہیں،
قلم چلتے رہیں،
لائبریریاں آباد رہیں،
اور کتابوں سے محبت کا یہ کارواں نسل در نسل یونہی چلتا رہے۔
کیونکہ شاید انسان کی سب سے خوب صورت خواہش یہی ہے کہ وہ خود ختم ہو جائے، مگر اس کے بعد بھی روشنی باقی رہے۔
اور کتاب وہ روشنی ہے جو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ، ایک نسل سے دوسری نسل اور ایک دل سے دوسرے دل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔
میں رہوں یا نہ رہوں
مگر کتابوں سے محبت کا کارواں یونہی چلتا رہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































