یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے کشیدگی میں بڑے اضافے کے دوران سعودی فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا۔
اس ڈرون کو منگل کو سعودی وقت کے مطابق شام چھ بجکر 50 منٹ پر مکہ کے جنوب میں انٹرسیپٹ کیا گیا۔ مکہ مکرمہ وہ مقدس شہر ہے جہاں ہر سال لاکھوں مسلمان آتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اتحادی فورسز کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بدھ کی صبح ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام سرخ لکیر(ریڈ لائن) ہے۔ ضروری اور سخت اقدامات کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔
مکہ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے اور ایران کی حمایت یافتہ گروپ کے اس اقدام سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کا امکان ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے یہ کوشش دہشت گرد حوثی ملیشیا کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ میں ایک سیاہ دھبہ رہے گی۔ اسے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی ایک دانستہ کارروائی سمجھا جا رہا ہے۔
اس اقدام کو صرف ایک شرمناک عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ وحی کے مرکز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی یہ وہ مقام ہے جو دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ اس سے حرمین شریفین کے مہمانوں، شہریوں اور مقیمین کو خوفزدہ کرنے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
عرب نیوز کے مطابق اس گروپ کی جانب سے مقدس شہر کے اطراف داغے گئے میزائل کو مار گرائے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اتحادی فورسز کے مطابق 2017 میں بھی سعودی فضائی دفاعی نظام نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ کی سمت داغے جانے والے ایک بیلسٹک میزائل کو انٹرسیپٹ کیا تھا۔
یہ میزائل طائف کے علاقے الوصلیہ کے اوپر مار گرایا گیا تھا۔ اس واقعے میں کسی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
حوثیوں نے پیر کو مبینہ طور پر خمیس مشیط، ابھا اور طائف کے شہری علاقوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے جبکہ سات مکانات اور دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں حوثی ملیشیا کے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 70 افراد زخمی ہوئے تھے۔ مملکت نے جمعے کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں کو متعدد ڈرون حملوں سے نشانہ بنائے جانے کے بعد ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔
خلیجی ملکوں اور اسلامی تنظیموں نے پائب لائن پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔


















































