کوہ یار، تمہیں کیسے بیان کروں؟ – کوہ پروش بلوچ

1

کوہ یار، تمہیں کیسے بیان کروں؟

تحریر: کوہ پروش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تمہارے بارے میں کیا لکھوں؟ الفاظ ساتھ نہیں دے رہے، ہاتھ لرز رہے ہیں اور دل اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ تم اب ہمارے درمیان نہیں ہو۔ مجھے معلوم ہے کہ میں تمہارے بارے میں جتنا بھی لکھوں، تمہاری مخلصی، تمہاری محبت اور تمہاری شخصیت کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ پھر بھی یہ چند الفاظ ایک چھوٹی سی کوشش ہیں کہ تمہاری یاد کو لفظوں میں سمیٹ سکوں۔

کوہ یار، تمہیں کیسے بیان کروں؟

ایک وقت تھا جب بسیمہ میں تنظیم اپنے عروج پر تھی۔ طارق جان سے لے کر ظفر جان تک، جن دوستوں نے بسیمہ میں تحریک کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا، ان کی خدمات اور قربانیوں کو الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ان لوگوں نے اپنی محنت، اخلاص اور وابستگی سے بسیمہ میں ایک امید اور ایک نئی روشنی پیدا کی تھی۔

پھر ایک وقت آیا جب ہمارے دوست شہید ہوئے۔ ان شہادتوں کے بعد بسیمہ پر جیسے ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ہو۔ وہ آوازیں جو کبھی اس علاقے میں سنائی دیتی تھیں، خاموش ہو گئیں۔ پھر نہ جانے کتنے سال گزر گئے؛ بسیمہ میں تنظیم کا نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا تھا۔

اسی طویل خاموشی کے بعد تم آئے، کوہ یار۔

تم نے طارق جان کی فکر اور اس کے خواب کو اپنے دل میں لیے پہاڑوں کا رخ کیا۔ تم اس وقت آگے بڑھے جب بسیمہ ایک طویل خاموشی سے گزر رہا تھا۔ تمہاری آمد صرف ایک شخص کی آمد نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی یاد کی واپسی تھی جسے وقت اور خاموشی نے کہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

تم نے اپنے قدم وہاں رکھے جہاں برسوں سے خاموشی تھی۔ تم اپنے ساتھیوں کے لیے فکر مند رہے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا اور اپنی وابستگی کو آخری دم تک نبھایا۔

شاید تمہاری شخصیت کو سمجھنے کے لیے صرف تمہاری جدوجہد اور مشکل وقت میں تمہارا ثابت قدم رہنا کافی نہیں۔ تمہاری اصل خوبصورتی ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی چھپی ہوئی تھی، جنہیں شاید تم خود بھی معمولی سمجھتے تھے، مگر وہ تمہارے کردار کی گہرائی بیان کرتی تھیں۔

ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ تم اپنی بندوق کو روزانہ بڑے اہتمام اور محبت سے کپڑے سے صاف کر رہے تھے۔ میں نے حیرت سے تم سے پوچھا

“پل، تم روز اپنی بندوق کو اتنی توجہ اور احتیاط سے کیوں صاف کرتے ہو؟”

تم نے مجھے غور سے دیکھا، چند لمحے خاموش رہے، پھر بڑے سادہ مگر دل کو چھو لینے والے انداز میں کہا:

“یہ بندوق تنظیم کی امانت ہے، اور یہاں ہمارے پاس جو بھی چیز ہے، وہ تنظیم کی امانت ہے۔ امانت صرف سنبھالنے کا نام نہیں، بلکہ اس کا حق ادا کرنے کا نام بھی ہے۔ جس چیز کی ذمہ داری ہمیں سونپی گئی ہو، ہمیں اس کا پوری دیانت اور اخلاص کے ساتھ خیال رکھنا چاہیے۔”

تمہاری یہ بات آج بھی میرے دل میں گونجتی ہے۔ شاید امانت داری صرف کسی چیز کی حفاظت کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسان کے سپرد کیے گئے اعتماد، رشتوں، محبتوں اور ذمہ داریوں کا حق ادا کرنے کا نام بھی ہے۔ اور تمہاری زندگی میں یہ وصف نمایاں طور پر دکھائی دیتا تھا۔

تم واقعی ایک مخلص انسان تھے۔ اپنے کلی میں پانی لیتے تو پہلے اپنے دوستوں کو پلاتے، پھر خود پیتے۔ تمہارے دوست بہت تھے، مگر تمہارے دل میں سب کے لیے ایک جیسی محبت تھی۔ تمہاری نظر میں نہ کوئی بڑا تھا، نہ چھوٹا؛ سب برابر تھے، سب اپنے تھے۔

تمہیں اپنے دوستوں کی فکر اپنے آپ سے زیادہ تھی۔ کسی ساتھی کو تکلیف ہوتی تو تم اس تکلیف کو محسوس کرتے، کسی دوست کا مسئلہ ہوتا تو اسے اپنا مسئلہ سمجھتے۔ تمہاری مخلصی، تمہاری شفقت اور تمہاری محبت ان لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی جو تمہیں قریب سے جانتے تھے۔

چے گویرا سے منسوب ایک معروف قول ہے

“سچا انقلابی محبت کے ایک عظیم جذبے سے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔”

تمہاری شخصیت کو یاد کرتے ہوئے یہ جملہ اس لیے معنی خیز محسوس ہوتا ہے کہ تمہاری دوستی اور اپنے لوگوں کے لیے فکر محض الفاظ تک محدود نہیں تھی۔ تم جن لوگوں سے وابستہ تھے، ان کے دکھ اور خوشی کو دل سے محسوس کرتے تھے۔ تمہاری مخلصی کا اصل اظہار شاید یہی تھا کہ تم دوسروں کی فکر کو اپنی فکر سمجھتے تھے۔

مگر زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ وقت گزرتا گیا، کچھ دوست تم سے بچھڑ گئے، کچھ سفرِ زندگی میں کہیں دور چلے گئے۔ ان کے جانے سے تمہارے دل میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا جسے وقت بھی کبھی پُر نہ کر سکا۔

تم اکثر خاموش رہتے تھے، مگر تمہاری خاموشی میں بچھڑنے والوں کی یادیں بولتی تھیں۔ شاید یہی مخلص لوگوں کی پہچان ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے چلے جانے کے بعد بھی انہیں دل سے رخصت نہیں کرتے۔

وکٹر فرینکل نے لکھا ہے

“جب ہم کسی صورتِ حال کو بدلنے کے قابل نہیں رہتے، تو ہمیں خود کو بدلنے کا چیلنج درپیش ہوتا ہے۔”

زندگی کے تلخ تجربات، جدائیوں اور مشکل حالات کے باوجود تم نے خود کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ تمہاری خاموشی میں بھی ایک حوصلہ تھا، اور تمہاری یادوں میں بھی اپنے بچھڑنے والوں کے لیے ایک گہری وفاداری محسوس ہوتی تھی۔

کچھ لوگ وقت کے ساتھ ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، مگر دل سے کبھی نہیں جاتے۔ ان کی یادیں انسان کے اندر ایک خاموش چراغ کی طرح جلتی رہتی ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ مدھم تو ہو سکتی ہیں، مگر کبھی بجھتی نہیں۔

کوہ یار، یعنی مشتاق، بسیمہ، بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا انسان تھا جسے صرف اس کی تحریکی زندگی کی وجہ سے یاد کرنا کافی نہیں۔ وہ اپنی ذات میں ایک ایماندار، شفیق، مہربان اور دوستوں سے بے پناہ محبت کرنے والا شخص تھا۔ جو لوگ اس کے قریب رہے، ان کے لیے کوہ یار صرف ایک ساتھی نہیں، بلکہ ایک ایسا دوست تھا جو اپنے سے زیادہ اپنے دوستوں کی فکر کرتا تھا۔

کوہ یار 2022ء سے بولان محاذ سے وابستہ رہا۔ بعد میں اپنی زندگی کے آخری چند مہینوں میں وہ بسیمہ محاذ پر تھا۔

کوہ یار کے لیے یہ صرف ایک جگہ بدلنے یا ایک نئی ذمہ داری قبول کرنے کا فیصلہ نہیں تھا؛ اس کے لیے یہ اپنے یقین اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ وفاداری کا اظہار تھا۔ اس نے مشکل حالات کے باوجود اپنے قدم پیچھے نہیں کھینچے اور آخری دم تک اپنے راستے سے مخلص رہا۔

وہ شفیق تھا، مہربان تھا اور اپنے دوستوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا تھا۔ وہ اپنے سے زیادہ دوسروں کی فکر کرتا تھا۔

فلسفی ژاں پال سارتر کا معروف قول ہے:

“انسان اس کے سوا کچھ نہیں جو وہ خود اپنے آپ کو بناتا ہے۔”

کوہ یار کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے یہ قول اس کے کردار کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے، انسان کی اصل پہچان صرف اس کے نام یا الفاظ سے نہیں، بلکہ اس کے کردار، اس کے فیصلوں اور دوسروں کے ساتھ اس کے برتاؤ سے بنتی ہے۔ کوہ یار نے بھی اپنے کردار، دوستی اور مخلصی کے ذریعے اپنے لیے ایک ایسی پہچان بنائی جو اس کے جانے کے بعد بھی اس کے دوستوں کے دلوں میں موجود ہے۔

کوہ یار کی شہادت اس کے دوستوں اور چاہنے والوں کے لیے ایک گہری جدائی ہے۔ لیکن اس کی یاد صرف اس کے آخری لمحات سے نہیں جڑی۔ وہ ان تمام چھوٹی چھوٹی باتوں میں زندہ ہے جو اس کی شخصیت کو خاص بناتی تھیں۔ اس کی ایمانداری، اس کی دوستی، اس کی شفقت، اس کی مہربانی اور اپنے لوگوں کے لیے اس کی بے پناہ فکر۔

شاید سچی امانت داری یہی ہے کہ انسان چیزوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ رشتوں، محبتوں، یادوں اور اپنے لوگوں کی قدر بھی آخری دم تک دل میں محفوظ رکھے۔ کوہ یار نے بھی اپنی زندگی میں بہت سی چیزیں پیچھے چھوڑیں، مگر سب سے قیمتی چیز اس کی مخلصی اور محبت تھی، جو آج بھی اس کے دوستوں کے دلوں میں ایک امانت کی طرح محفوظ ہے۔

کچھ لوگ اپنی زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر اپنا کردار پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ کوہ یار بھی انہی لوگوں میں سے تھا۔ اس کی یاد ان دوستوں کے دلوں میں زندہ رہے گی جن کے لیے وہ خود سے زیادہ فکر مند تھا۔

کوہ یار کی کہانی صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ دوستی، وفاداری، ایمانداری اور یاد کی کہانی ہے۔ وقت گزر جائے گا، بہت سے چہرے بدل جائیں گے، بہت سی باتیں وقت کی گرد میں چھپ جائیں گی، مگر ایک مخلص دوست کی کمی اور اس کی یاد دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

کوہ یار جان، کچھ انسان الفاظ میں بیان نہیں ہوتے، وہ صرف دل میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ تم بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ تم چلے گئے، مگر تمہاری مخلصی، تمہاری محبت اور تمہاری یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔