سیول نے بلوچستان کے لیے سفری انتباہ کا اعلیٰ ترین درجہ جاری کرتے ہوئے کوریائی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دورے منسوخ کریں اور وہاں سے نکل آئیں۔
کوریا کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز پاکستان کے کچھ حصوں میں، مربوط علیحدگی پسند حملوں سے جڑے تشدد میں اضافے کے پیشِ نظر، ‘لیول 4’ (اعلیٰ ترین سطح) کی سفری پابندی عائد کر دی۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ پابندی، جو ملک کے چار سطحی سفری انتباہی نظام میں سب سے سخت درجہ ہے، بلوچستان میں رات 11 بجے سے نافذ العمل ہوگی۔
بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی سفری پابندی عائد ہے۔ قانون کے تحت، جو افراد خصوصی اجازت کے بغیر اعلیٰ ترین سطح کی سفری پابندی والے علاقوں کا دورہ کرتے ہیں یا وہاں قیام کرتے ہیں، انہیں سزا دی جا سکتی ہے۔
وزارت نے بلوچستان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھنے والوں پر زور دیا کہ وہ اپنے سفر منسوخ کریں اور وہاں مقیم افراد سے کہا کہ وہ وہاں سے نکل آئیں۔
بلوچستان میں رواں سال بلوچ آزادی پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال جنوری میں بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ہیروف دوم کے تحت بیک وقت بلوچستان کے چودہ شہروں پر مربوط حملے کرکے کئی روز تک اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔ ان حملوں میں پاکستان کے سینکڑوں فورسز اہلکار ہلاک ہوئے تھیں۔
مزید برآں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے ‘معاشی ناکہ بندی’ کے تحت بلوچستان کے اہم مرکزی شاہراہوں پر کئی مہینوں سے کنٹرول برقرار ہے جہاں تجارتی شاہراہوں پر پرتشدد واقعات رونماء ہوئے ہیں جبکہ کاروبار شدید متاثر ہوئی ہے۔



















































