میری ڈائری سے ایک صبح کا رنگ – نوید مہر

27

میری ڈائری سے ایک صبح کا رنگ

تحریر: نوید مہر

دی بلوچستان پوسٹ

آج صبح جب میں اٹھا تو فون پر ایک ویڈیو تھی۔ کوئٹہ کی کسی گلی کا منظر۔ ایک عورت، جس کے بال سفید نہیں ہوئے لیکن چہرے پر وہ لکیریں ہیں جو صرف غم کھودتا ہے، ایک پوسٹر اٹھائے کھڑی ہے۔ پوسٹر پر ایک نوجوان کی تصویر ہے۔ وہ مسکرا رہا ہے۔ ایسی مسکراہٹ جو اب صرف کاغذ پر رہ گئی ہے۔

میں نے وڈیو دیکھی، پھر روک دی، پھر دوبارہ دیکھا۔ مجھے لگا جیسے میں اس عورت کو جانتا ہوں۔ نہیں، میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔ لیکن میں ہر اس عورت کو جانتا ہوں جس کے گھر سے ایک صبح کسی نے کسی کو اٹھایا اور شام کو واپس نہیں کیا۔

یہاں “لاپتہ” ایک لفظ نہیں، ایک زندگی کا طریقہ بن چکا ہے۔ ہمارے ہاں جب کوئی پیدا ہوتا ہے تو والدین پہلے یہ نہیں پوچھتے کہ “بیٹا کیا بنے گا؟” بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ “کب تک بچے گا؟” یہ کوئی مبالغہ نہیں۔ یہ صرف وہ حقیقت ہے جو اخباروں کی سرخیوں میں نہیں آتی۔

میں نے ایک دوست کی بہن کو دیکھا۔ وہ میڈیکل کالج جاتی تھی۔ اس کا بھائی یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ ایک رات گاڑی آئی، کچھ لوگ اترے، اور صبح تک وہ گھر کا حصہ نہیں رہا۔ آج دس سال بعد، اس کی بہن ڈاکٹر ہے۔ لیکن جب وہ گھر لوٹتی ہے، تو دروازے پر پہلے جوتے اتارتی ہے، پھر ایک نظر کمرے کی طرف ڈالتی ہے، جہاں اب بھی اس کی کتابیں ویسی ہی پڑی ہیں جیسے اس رات تھیں۔ اس کمرے کو کوئی نہیں چھوتا۔ ماں ہفتے میں ایک بار صاف کرتی ہے، جیسے کوئی واپس آنے والا ہو۔

یہ “لاپتہ” صرف ان لوگوں کا مسئلہ نہیں جن کے گھر سے کوئی اٹھا۔ یہ ہم سب کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ جب ایک معاشرے میں یہ بات عام ہو جائے کہ انسان غائب ہو سکتا ہے، تو وہ معاشرہ خاموشی میں جینا سیکھ لیتا ہے۔ ہماری نسل نے یہ خاموشی ماں کے پیٹ میں سیکھی ہے۔ ہم ایسے بچے ہیں جو اسکول جاتے وقت دیکھتے تھے کہ فلاں کی دکان بند کیوں ہے؟ اور جب بڑے ہوئے، تو پتہ چلا کہ دکان اس لیے بند تھی کیونکہ دکاندار کا بیٹا “نہیں رہا”، اور “نہیں رہا” کا مطلب کبھی موت نہیں، کبھی زندگی نہیں، بس ایک درمیانی جگہ جہاں کوئی نہیں جاتا۔

میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ ریاست کی آنکھیں کیسی ہوں گی؟ جو روز دیکھتی ہیں کہ لوگ پوسٹروں پر مسکراتے چہروں کو اٹھائے سڑکوں پر ہیں، اور پھر بھی کہتی ہیں “سب ٹھیک ہے”۔ کیا وہ آنکھیں اندھی ہیں؟ نہیں۔ وہ آنکھیں بس دوسری طرف دیکھنے کی عادی ہو چکی ہیں۔ وہ چین کے بندرگاہ دیکھتی ہیں، ایران کی سرحد دیکھتی ہیں، امریکہ کی بیان بازی دیکھتی ہیں ، لیکن اس ماں کو نہیں دیکھتیں جو ہر جمعہ کو عدالت کے دروازے پر بیٹھی ہوتی ہے۔

اور ہم؟ ہم کیا دیکھتے ہیں؟

ہم ایک ایسی دنیا دیکھتے ہیں جہاں بلوچستان کا نام صرف “سٹریٹجک” آتا ہے۔ جہاں ہماری زمین کی قیمت اس کے نیچے پڑی دولت سے لگائی جاتی ہے، لیکن زمین پر چلنے والوں کی کوئی قیمت نہیں۔ جہاں امریکہ کہتا ہے “انسانی حقوق”، ایران کہتا ہے “سیکیورٹی”، چین کہتا ہے “ترقی”، اور ہمارے حکمران کہتے ہیں “پاکستان زندہ باد” ، لیکن ان سب کے بیچ، ایک بلوچ کا جسم صرف ایک نمبر بن جاتا ہے۔ ایک ایسا نمبر جو کبھی بڑھتا ہے، کبھی گھٹتا ہے، لیکن کبھی سِفر نہیں ہوتا۔

میں صرف ایک نوجوان ہوں جس نے “لاپتہ” کے اس لفظ کو اتنی بار سنا ہے کہ اب یہ میرے کانوں میں ایک دھن بن کر رہ گیا ہے۔ ایک ایسی دھن جو نیند میں بھی بجتی ہے۔

BYC کے جلسے بند ہو گئے۔ لیڈر جیلوں میں ہیں۔ لیکن جو خاموشی ان جلسوں کے بعد آئی ہے، وہ اس سے زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ یہ خاموشی اندر جل رہی ہے۔ یہ وہ خاموشی ہے جو پہلے چیخ بنتی ہے، پھر آگ، اور آگ پھر کسی کو نہیں پوچھتی کہ تیرا جرم کیا تھا۔

میں آج ایک بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ہمیں “انتہا پسند” کیوں کہا جاتا ہے؟ کیا اس لیے کہ ہم اپنے بھائیوں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں؟ یا اس لیے کہ ہمیں یقین نہیں آتا کہ وہ لوگ “غدار” تھے جنہیں ہم نے رات کو قرآن پڑھتے، دن کو نماز پڑھتی ، صبح کو چائے بناتے دیکھا تھا؟ اگر یہ انتہا پسندی ہے، تو پھر ہر ماں انتہا پسند ہے، ہر بہن انتہا پسند ہے، ہر دوست انتہا پسند ہے جو ایک خالی کرسی کو نہیں بھولتا۔

ریاست کو شاید یہ نہیں معلوم کہ جب تم کسی کی آواز دبانے کی کوشش کرو، تو تم اس کی آواز نہیں دباتے، تم اس کی کہانی اوروں تک پہنچا دیتے ہو۔ آج جو لڑکی کل تک صرف اپنی ماں کی طرح روتی تھی، آج وہ لکھتی ہے، بولتی ہے، اور شاید کل وہ بھی ایک ایسا راستہ چنے جو ہمیں پسند نہیں۔ لیکن تم نے اسے یہ راستہ دکھایا۔ تم نے اسے یہ سکھایا کہ انصاف عدالتوں میں نہیں، سڑکوں پر مانگنا پڑتا ہے۔ اور جب سڑکیں بند کر دو، تو پھر پہاڑ بچتے ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ یہ سب کہاں جا رہا ہے۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ایک ایسی نسل جو اپنے گھروں میں خالی کرسیاں دیکھ کر بڑی ہوئی ہے، وہ کبھی “معمولی” زندگی نہیں جی سکتی۔ ان کے لیے ہر صبح ایک سوال ہے، ہر رات ایک جواب کا انتظار۔ اور انتظار، جیسا کہ کسی نے کہا، سب سے بڑا عذاب ہے۔

آج کی رات، میں اپنے کمروں کی بالکنی میں بیٹھا تھا۔ دور مہردار کے پیچھے سے ایک جہاز گزرا۔ شاید کوئٹہ سے قلات جا رہا تھا۔ شاید کسی امیر کا، شاید کسی سیاستدان کا ، شاید کسی آپریشن کا۔ میں نے سوچا، اس جہاز میں بیٹھے لوگوں کو پتہ بھی ہو گا کہ نیچے کتنے گھر اندھیروں میں ہیں؟ شاید نہیں۔

کیونکہ اندھیرا صرف اسی کو نظر آتا ہے جو خود اندھیرے میں ہو۔

اور ہم، ہم تو اندھیرے میں پلے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔