ایران کا آبنائے ہرمز کے باہر ’نو گو زون‘ قائم کرنے کا عندیہ

34

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک ’نو گو زون‘ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ تہران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی اور اقتصادی کشیدگی کے دوران تازہ ترین اقدام ہے۔

محسن رضائی نے اتوار کو ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ زون امریکی بحریہ کی جانب سے قائم کردہ محاصرے کی لائن سے شروع ہوگی اور خلیج کے کچھ حصوں تک پھیلی ہوئی ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’نئے زون میں داخل ہونے والے کسی بھی بحری جہاز کو ایران کی ’پابندیوں کی فہرست‘ میں شامل کر دیا جائے گا،‘ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف تہران کیا اقدامات کرے گا۔

رضائی نے یہ بھی کہا کہ ’آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر بند‘ ہے اور ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔‘

تاہم یہ بیان امریکی مؤقف سے متصادم ہے، جس کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔

امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے اتوار کو کہا کہ روزانہ 90 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ان کے مطابق متبادل سپلائی راستوں کے ذریعے تیل کی ترسیل بڑھ کر اس سطح کے تقریباً دو تہائی تک پہنچ گئی ہے جو موجودہ کشیدگی شروع ہونے سے پہلے ریکارڈ کی گئی تھی۔

معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، اس لیے اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

محسن رضائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے اور اس کے تیل کی برآمدات کو ہدف بنانے والی بحری ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ ایران پر پابندیاں بھی سخت کر دی ہیں۔