بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج بروز ہفتہ 6349ویں روز بھی جاری رہا۔
اس دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے بالخصوص بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ایک شخص کی جبری گمشدگی سے پورا خاندان شدید ذہنی کرب اور اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور ان کی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہان کو جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

















































