بلوچستان کے ضلع زیارت میں ایف سی کیمپ اور پولیس و کسٹمز کے مشترکہ دفتر پر حملے کے نتیجے میں کم از کم پانچ اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں، جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد آٹھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والوں میں پاکستانی فوج کا کیپٹن ضیاء اللہ، حوالدار سمیع اللہ، لانس نائیک نوروز، لانس نائیک شکیل اور سپاہی سجاول شامل ہیں۔
زخمی ہونے والے اہلکاروں میں حوالدار جہانگیر، لانس نائیک سردار، لانس نائیک شبیر، سپاہی انور اور سپاہی حکمت شامل ہیں، جن میں سپاہی عاشق اور سپاہی غلام رسول کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
حکام سے منسوب اطلاعات کے مطابق حملے کے دوران کسٹمز کے چار اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم مجموعی ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے اسپیشل استشہادی فورس (ایس آئی ایف) نے زیارت میں قائم جوائنٹ پولیس اینڈ کسٹمز آفس کو نشانہ بنایا۔
ٹی ٹی پی نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپ کے دوران 15 اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے کارروائی کے دوران 15 ہتھیار اور مختلف نوعیت کا سامان قبضے میں لیا جبکہ ایک کواڈ کاپٹر بھی مار گرایا۔













































