عالمی یومِ متاثرینِ جبری گمشدگی کے موقع پر بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے نیدرلینڈز کے شہر اُتریخت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کا مقصد بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے سنگین بحران کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔
مظاہرے میں پشتون سیاسی کارکنوں نے بھی شرکت کی اور جبری گمشدگیوں کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جبکہ بینرز اور پلے کارڈز کے ذریعے انصاف کا مطالبہ اور جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمے پر زور دیا گیا۔
اجتماع سے بی این ایم نیدرلینڈز چیپٹر کے صدر مہیم عبدالرحیم، عابد جان قادر، ڈاکٹر لطیف بلوچ، ثناء اللہ بلوچ اور انسانی حقوق کے کارکن زر خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بلوچ معاشرے پر پڑنے والے گہرے اور تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالی۔
مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جو جبری گمشدگی کے المیے سے متاثر نہ ہوا ہو۔ بلوچستان بھر میں خاندان اپنے پیاروں کے اغوا اور جبری گمشدگی کے بعد طویل عرصے سے کرب اور بے یقینی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اکثر خاندانوں کو اپنے عزیزوں کے مقامِ موجودگی، حالت اور انجام کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی جاتی، جس سے ان کی اذیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے بحران کی ایک نمایاں علامت بن چکی ہیں۔ سیاسی و سماجی کارکنوں، طلبہ، اساتذہ، صحافیوں، وکلا، لکھاریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں سمیت معاشرے کے مختلف طبقات اس پالیسی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ بلوچستان بلوچ قوم کا وطن ہے اور بلوچ قوم اپنے حقِ حاکمیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ انھوں نے اس جدوجہد کے ساتھ پشتون قوم کی مسلسل یکجہتی کو بھی سراہا اور کہا کہ پشتون قوم نے ظلم، ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بلوچ قوم کی جدوجہد میں ہمیشہ آواز بلند کی ہے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیاں بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف جاری نسل کشی کے عمل کا ایک حصہ ہیں۔ ہزاروں افراد کی مسلسل جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں نے بلوچستان بھر میں خوف، عدم تحفظ اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
بلوچ نیشنل موومنٹ نے مطالبہ کیا کہ تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کے بارے میں ان کے خاندانوں کو فوری طور پر ان کے مقامِ موجودگی، حالت اور انجام سے آگاہ کیا جائے۔ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، رپورٹ شدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ان کے ذمہ دار افراد کا احتساب یقینی بنایا جائے۔



















































