تم کیوں گئے؟
تحریر: سازین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
تم کیوں گئے؟
یہ سوال میرے وجود کو جیسے ہلا کر رکھ دیتا ہے، مگر مجھے اس کا جواب نہیں مل رہا۔ یقیناً میں نے یہی سوچا تھا کہ ہمارا سفر یہاں ختم نہیں ہوگا، یہ کہانی ادھوری نہیں رہے گی، مگر میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ وقت کو بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔
دیکھو، آج تم نہیں ہو۔ کیا میں اس بات پر یقین کروں؟ وقت بدل گیا، تم اور میں کیسے الگ ہو گئے؟ اور کیوں؟
تمہاری یاد مجھے جیسے اندر سے ختم کیے جا رہی ہے۔ وہ کمی جو میں محسوس کر رہی ہوں، مجھے ایک ایسی کیفیت میں مبتلا کر رہی ہے جسے بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔
رات کے وہ پہر، جب سب ایک اور صبح کے انتظار میں خود سے بے خبر سو رہے تھے، میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی۔ وہ روشنی کھڑکی سے چھن کر میرے چہرے پر پڑ رہی تھی، اور میں کسی کی یاد میں اس طرح گم تھی کہ مجھے اپنا وجود بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
میری آنکھوں سے آنسو ایسے بہہ رہے تھے جیسے کوئی دریا ہو، اور میرے ہاتھ میں موبائل تھا، جس سے میں ایک وائس سن رہی تھی۔
وہ مجھ سے بول رہا تھا:
“کہ تم کس کی بات کر رہی ہو؟” کسی کا نام لے کر مجھ سے پوچھ رہا تھا۔ اور اس وائس کو میں اب تک بیس سے پچیس بار سن چکی تھی۔
اس وقت میں تمہارے لیے کچھ لکھنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر جیسے میرے الفاظ کم پڑ گئے ہوں، جیسے لفظ میرا ساتھ دینے سے انکار کر رہے ہوں۔ دل میں بہت کچھ تھا، لیکن زبان جیسے بند ہو گئی تھی اور ہاتھ تو الگ ہی ساتھ دینا چھوڑ چکے تھے۔
پھر بھی کوشش یہی تھی کہ اپنا درد کسی کاغذ پر بیان کر سکوں، شاید اس سے درد میں تھوڑی سی کمی آ جائے۔ یقیناً جب لکھ تمہیں رہی ہوں تو درد میں کیا کمی آتی، مگر لکھنے کے لیے میرے پاس صرف تمہاری یادیں تھیں۔
سب یہی کہتے ہیں کہ خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ وہ رشتہ زندگی کو خوبصورت بناتا ہے جو نظریے کا ہوتا ہے، لیکن اس کا احساس مجھے تب ہوا جب تم مجھ سے دور ہو گئے۔
جب تم سے آخری وقت بات ہو رہی تھی تو میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل چکی تھی۔ مجھے قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دکھائی دے رہا تھا۔ ایک آگ تھی جو میری طرف بڑھ رہی تھی۔ تھی تو مجھ سے بہت دور، لیکن اس کی گرمی کو میں محسوس کر رہی تھی۔
اس کے بعد مجھے نہیں پتا کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ نہ کوئی ہوش تھا، نہ ہی مجھے اپنا پتا تھا۔
میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ ایک کمرہ ہے اور اس میں اندھیرا ہے، ایسا اندھیرا جیسے ایک آنکھ دوسری آنکھ کو بھی نہ دیکھ پا رہی ہو۔
اسی کے ساتھ دروازہ کھلا اور اندر کوئی داخل ہوا۔ اس کے آنے سے جیسے ایک روشنی سی پھیل گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے پاس آ کر رک گیا ہے۔ ہاتھ میں بندوق، ایک جیکٹ اور اس کے اوپر کوٹ، ہاتھ میں مخابرہ۔ وہ خوبصورتی، وہ آنکھیں، وہ داڑھی۔۔۔ میں اس کی خوبصورتی پر حیران رہ گئی۔
اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ میں اسی خیال میں تھی کہ ابھی تک اس کی آنکھیں ٹھیک نہیں ہوئی ہیں۔ میں نے نام لے کر اسے پکارا، لیکن اس نے میری طرف نہیں دیکھا، جیسے میری آواز اس تک پہنچ ہی نہیں رہی تھی۔
اس کے بعد جیسے خیال بدل گیا۔
وہ مجھ سے بات کر رہا تھا۔ میں رو رہی تھی اور وہ مجھے چپ کروانے کے بجائے بار بار پوچھ رہا تھا: “تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا ہوا ہے؟ کسی نے کچھ کہا ہے تمہیں؟ تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو؟”
میں تب بھی کچھ نہیں بول سکی، اور میری یہ خاموشی دیکھ کر وہ خود بھی خاموش ہو گیا۔
جب میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ تب مجھے سمجھ آیا کہ وہ بھی وہی محسوس کر رہا ہے جو میں محسوس کر رہی تھی۔
وقت جیسے پھر پیچھے چلا گیا۔
“تمہاری آنکھیں ابھی تک ٹھیک نہیں ہیں؟ کیوں اس طرح ہیں؟”
اور اسی کے ساتھ میں ہنس پڑی۔
میں نے اسے کہا: “اب یہ مت کہنا کہ غیرت کی وجہ سے ہیں، کیونکہ تم ہر وقت یہی کہتے ہو۔”
لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد اس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا، جیسے وہ میرا ہاتھ پکڑنا چاہتا ہو۔
یہ دیکھ کر میں نے خود کو اس کی طرف کرنے کی کوشش کی تو محسوس ہوا کہ میرے جسم کو جیسے کسی نے زنجیروں سے باندھ رکھا ہو۔
میں نے ناکام کوشش کی، لیکن اس تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔
خیال پھر بدل گیا۔
وہ مجھ سے بات کر رہا تھا اور مجھے کہہ رہا تھا: “میں نے کب کا میسج کیا ہے، آپ کہاں ہیں؟ جواب کیوں نہیں دے رہی ہو؟”
تو میں نے مسکرا کر کہا: “آپ مجھے یاد کر رہے تھے؟”
“یاد تو میں بھی کر رہی تھی۔ آپ اتنے دن کہاں تھے؟ رینج پر کیوں نہیں تھے؟ میں نے تمہیں بہت یاد کیا ہے۔”
یہ کہتے ہی میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
یہ دیکھ کر اس نے کہا: “زیبا، میں نے خود تمہیں بہت یاد کیا ہے، لیکن تم اتنے سوال ایک ساتھ کیسے کرتی ہو؟”
اور ہم ایک دوسرے سے ایسے ہی بات کرتے تھے۔
میں کچھ یاد کرنے کی کوشش میں تھی کہ اتنے میں اس نے مجھے آواز دی:
“سازین۔۔۔ او سازین۔۔۔”
میں ادھر سے جواب تو دے رہی تھی، مگر میری آواز اس تک نہیں پہنچ رہی تھی۔
دو تین بار آواز دینے کے بعد وہ چپ ہو گیا۔
اور وقت پھر بدل گیا۔
“دیکھو کماش کیا بول رہا ہے، سنو۔”
وہ بول رہا تھا:
“اپنے گھروں سے نکلو۔”
یہ اس صبح کے دو میسج اور ایک وائس تھی کہ “ہیروف 2” کے نام کا جنگ پورے بلوچستان میں پھیل چکا تھا۔
یہ دیکھ کر میں حیران ہو گئی اور اسے میسج پر میسج بھیج رہی تھی، لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔
اب وقت پھر سے اس جگہ پہنچ گیا جہاں ہم ملے تھے۔
میں نے ہاتھ آگے بڑھایا، لیکن تم تک نہیں پہنچ سکی، اور تم اسی جگہ کھڑے مجھے دیکھ رہے تھے۔
تم اتنے تو آگے آ گئے ہو، تھوڑا اور آگے آ جاؤ۔
ایسا محسوس ہوا جیسے میری آواز تم تک پہنچ گئی ہو۔
تم نے میری طرف منہ کر کے دیکھا۔
تھوڑی خاموشی کے بعد تم نے کہا:
“سازین؟”
میں بے اختیار بول پڑی:
“جی قربان۔”
“سازین، میں تم سے ناراض ہوں۔”
“تم یہ بات مت بولنا۔”
اور وہ دروازے کی طرف منہ کر کے جانے لگا۔
تھوڑا آگے جانے کے بعد پھر میری طرف دیکھ کر بولا:
“میں نے تمہیں بولا تھا۔”
“کنا درد ءِ چاوہ خنیسا”
یہ کہہ کر وہ نکل گیا۔
میں چیختی رہی، مگر وہ نہیں رکا۔ میں روتی رہی، لیکن اس نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔
وہ بس کچھ بول رہا تھا:
“ای فکر ئسے نا سنگت، باریم ءِ درد ءِ نا بڈ
کیرا عذاب اخس ٹپ آک خازہ انگا”
اور اسی چیخ کے ساتھ میری آنکھ کھلی۔
میں نے دیکھا کہ میں ایک کمرے میں ہوں اور میرے پاس کوئی بیٹھی ہے۔
“سنگت، ادھر آؤ، دیکھو! سازین ہوش میں آ رہی ہے، اور یہ کسی کا نام بھی لے رہی ہے، مگر میں سمجھ نہیں پا رہی کہ یہ کس کا نام لے رہی ہے۔”
“سازین، تم ہوش میں ہو؟ دیکھو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ کوئی بات کرو مجھ سے۔”
اسی کے ساتھ میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔
“سنگت، وہ کہاں ہے؟”
“تم کس کی بات کر رہی ہو؟”
“وہ جو میرے پاس آیا تھا، وہ کہاں چلا گیا؟ ابھی تو یہیں پر تھا۔”
یہ دیکھ کر وہ دونوں حیران ہو گئیں۔
دوسری سنگت میری طرف آئی اور بولی:
“تم کس کی بات کر رہی ہو؟ کوئی نہیں آیا ہے۔ تم ابھی سو جاؤ، ہم صبح بات کریں گے۔”
“لیکن کوئی تو آیا تھا نا؟ وہ مجھ سے بات کر رہا تھا۔”
سنگت یہ دیکھ کر بولی:
“سازین، ابھی سو جاؤ۔ تم ٹھیک نہیں ہو۔ ہم صبح دیکھیں گے کہ وہ کون تھا جو تمہارے پاس آیا تھا۔”
وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں کتاب تھی، لیکن اس کا دھیان میری طرف تھا۔ اس کے پاس چائے کا پیالہ تھا۔
اچانک اس نے میری طرف دیکھ کر کہا:
“سازین؟ کچھ پوچھنا ہے تم سے۔”
میں ہنس کر بولی:
“تم کب سے اجازت لینے لگی ہو؟ پوچھو۔”
“نہیں، وہ۔۔۔ تم کل کس کا نام لے رہی تھی؟ میں نے وہ نام سنا۔ کون ہے وہ؟ اور تم ہوش میں آتے ہی اس کا نام کیوں لے رہی تھی؟ کون آیا تھا تمہارے پاس؟ تم نے یہ بھی نہیں بتایا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا تھا۔”
میں بے اختیار ہنس پڑی۔
“اتنے سارے سوال ایک ہی بار میں؟”
بات بدلتے ہوئے میں نے کہا:
“وہ کسی اور دن بتاؤں گی تمہیں۔ اور جہاں تک بات اس نام کی ہے، مجھے خود کچھ یاد نہیں ہے۔”
وہ بولی:
“تمہیں یاد بھی ہے اور پتا بھی، لیکن تم بتانا نہیں چاہتی ہو۔”
“نہیں قربان، ایسی بات نہیں ہے۔ کچھ لوگ دل میں ہوتے ہیں، ان کی جگہ وہی ہوتی ہے، جیسے انہوں نے پورا جہاں سمیٹ رکھا ہو۔ بس وہ نام بھی میرے دل میں ہے اور کردار بھی۔”
یہ بول کر میں چپ ہو گئی۔
کیونکہ ابھی بھی “نام اور کہانی” ادھوری تھی۔
لیکن صرف ایک ہی چیز میرے دماغ میں تھی:
تو پدا بیا
تو پدا بیا
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































